اس رات کی فضیلت انیسویں رات سے زیادہ ہے۔ اور چاہئے کہ غسل، شب بیداری زیارت، سات قُل ھُوَاللہُ کی نماز، عملِ قرآن ، سو رکعت نماز، جوشن کبیر وغیرہ سب اس رات میں بجا لے آئے۔ اور روایات میں اس رات کے غسل، شب بیداری اور سعی عبادت کی اس رات اور تیئسیویں رات میں تاکید کی گئی ہے اور یہ شبِ قدر انھیں دو راتوں میں سےکوئی ایک رات ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ امامؑ سے سوال کیا گیا کہ ان دو راتوں میں شب قدر معین فرما دیں تو فرمایا کہ : خدا سے طلب کرنے میں یہ دو راتیں اس قدر آسان ہیں یا یہ کہ فرمایا : کیا کوئی برائی ہے اگر عمل خیر دو راتوں میں کرلو۔ شیخ صدوقؒ نے فرمایا کہ میرے مشایخ نے ایک ہی نشت میں یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی ان دو راتوں کو علمی مذاکرات میں گذار دے یہ بہتر عمل ہے۔