اے معبود! میں اپنے رہبر حضرت محمدؐ کے وسیلے سے تیرے حضور آیا ہوں۔۔۔
اس دعا کو نماز عید کے بعد ذکر فرمایا ہے۔
۳زکوٰۃ فطرہ نکالے ہر شخص کی طرف سے نیت کرے جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے۔ اور یہ واجب موکدہ ہے بلکہ ماہِ رمضان کے روزے کی قبولیت کی شرط اور اگلے سال تک حفاظت کا ذریعہ ہے۔ پروردگار نے اس کا ذکر نماز سے پہلے کیا ہے۔
۴اس کے بعد طلوعِ فجر کے بعد نماز عید تک جیسا کہ فرمایا ہے اور اسی روایت میں ہے کہ غسل چھت کے نیچے کرے اور پہلے یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِيْمَانًا بِكَ
خدایا میرا تجھ پر ایمان ہے
وَ تَصْدِيْقًا بِكِتَابِكَ
اور تیری کتاب کی تصدیق کرتا ہوں
وَ اتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ
اور اتباع کرتا ہوں تیرے پیغمبر
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
صلی اللہ علیہ وآلہ کی۔
اور غسل ختم ہونے کے بعد کہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ كَفَّارَةً لِذُنُوْبِيْ
خدایا اس غسل کو میرے گناہوں کا کفّارہ بنا دے
وَ طَهِّرْ دِيْنِيْۤ
میرے دین کو پاکیزہ بنادے
اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّيْ الدَّنَسَ۔
اور مجھ سے ہر طرح کی کثافت کو دور کردے۔
۵اچھے کپڑے پہنے، خوشبو استعمال کرے اور مکّہ کے علاوہ نماز کے لئے صحرا میں نکل جائے اور زیر آسمان نماز ادا کرے۔
۶نماز عید سے پہلے اوّل وقت میں افطار کرے اور بہتر یہ ہے کہ خرما یا شیرینی ہو۔ شیخ مفیدؒ نے فرمایا ہے کہ آج کے دن مختصر خاکِ تربتِ سید الشہداءؑ کا استعمال کرنا مباح ہے۔
۷جب نمازِ عید کے لئے تیار ہو جائے تو طلوع آفتاب کے بعد گھر سے نکلے اور ان دعاؤں کو پڑھے جن کو سید نے اقبال میں نقل کیا ہے ان میں سے ایک ابوحمزہ کی دعا ہے جس کی روایت امام باقرؑ سے بھی ہے کہ فرمایا اسے عیدِ فطر، عیدِ قربان اور جمعہ میں نما زکے لئے جانے لگو تو یہ دعا پڑھو۔
اَللّٰهُمَّ مَنْ تَهَيَّاَ فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ
جس نے آج کے دن تیاری کی اعمال کے لیے
اَوْ تَعَبَّاَ اَوْ اَعَدَّ وَ اسْتَعَدَّ
اور سامان تیار کیا اور مستعد ہوگیا
لِوِفَادَةٍ اِلٰى مَخْلُوْقٍ
کسی مخلوق کے پاس حاضر ہونے کے لیے
رَجَاۤءَ رِفْدِهِ وَ نَوَافِلِهِ
تا کہ اس کے عطایا
وَ فَوَاضِلِهِ وَ عَطَايَاهُ
اور احسانات حاصل کرے۔
فَاِنَّ اِلَيْكَ يَا سَيِّدِيْ تَهْيِئَتِيْ وَ تَعْبِئَتِيْ
اے میرے مالک میری تیاری اور میری آمادگی
وَ اِعْدَادِيْ وَ اسْتِعْدَادِيْ
اور میری مستعدی
رَجَاۤءَ رِفْدِكَ وَ جَوَاۤئِزِكَ
سب تیرے عطیے،
وَ نَوَافِلِكَ وَ فَوَاضِلِكَ
تیرے انعامات، تیرے احسانات،
وَ فَضَاۤئِلِكَ وَ عَطَايَاكَ
تیرے افادات، تیرے فضل و کرم کے لیے ہیں
وَ قَدْ غَدَوْتُ اِلٰى عِيْدٍ مِنْ اَعْيَادِ اُمَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ
اور آج کی صبح میں تیرے نبی محمدؐ کی امّت کی عیدوں میں سے ایک عید منا رہا ہوں۔
صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَ عَلٰىۤ اٰلِهِ
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
وَ لَمْ اَفِدْ اِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمَلٍ صَالِحٍ اَثِقُ بِهِ قَدَّمْتُهُ
میری حاضری تیری بارگاہ میں کسی قابل اعتماد عملِ صالح کی بناپر نہیں ہے
وَ لَا تَوَجَّهْتُ بِمَخْلُوْقٍ اَمَّلْتُهُ
اور نہ کسی مخلوق کی امید پر حاضر ہورہا ہوں
وَ لٰكِنْ اَتَيْتُكَ خَاضِعًا
بلکہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ
مُقِرًّا بِذُنُوْبِيْ وَ اِسَاۤءَتِيْ اِلٰى نَفْسِيْ
اپنے گناہوں اور اپنے نفس پر زیادتی کے اقرار کے ساتھ حاضر ہورہا ہوں۔
فَيَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ
اے خدائے عظیم و عظیم و عظیم۔
اِغْفِرْ لِيَ الْعَظِيْمَ مِنْ ذُنُوْبِيْ
میرے عظیم گناہوں کو معاف کردے کہ
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ الْعِظَامَ اِلَّاۤ اَنْتَ
عظیم گناہوں کو عظیم خدا کے علاوہ کوئی معاف نہیں کرسکتا ہے۔
يَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ۤاَنْتَ
اے وہ خدا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اور اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔