EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
دیگر نماز حضرت حجتعج
کتاب نجم الثاقب ہی میں شیخ طبرسیؒ کی کتاب کنوز النجاح سے نقل کیا گیا ہے جو حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہٗ الشریف سے مروی ہے کہ جو شخص خداوند عالم سے کوئی حاجت رکھتا ہو تو وہ شبِ جمعہ آدھی رات کو غسل کرے اور جانماز پر جا کر دو رکعت نماز پڑھے پہلی رکعت میں سورۂ حمدمیں :۔
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔
کو سو ۱۰۰؍ بار کہے اور پھر سورہ کو مکمل کرے اور سورۂ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورۂ قل ھو اللہ پڑھے اور رکوع و سجود بجالائے اور :۔
سُبْحَانَ رَبِّىَ الْعَظِيْمِ وَ بِحَمْدِهِ۔
اور دونوں سجدوں میں سات ۷؍ مرتبہ کہے:۔
سُبْحَانَ رَبِّىَ الْاَعْلٰى وَ بِحَمْدِهِ۔
پھر اسی طرح دوسری رکعت پڑھے اور نماز تمام ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے۔ یقیناً خداوند عالم اس کی حاجت کو پوری کر دے گا بشرطیکہ اس کی حاجت صلہ رحم کو قطع کرنے کے لئے نہ ہو۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ اَطَعْتُكَ فَالْمَحْمِدَةُ لَكَ
وَ اِنْ عَصَيْتُكَ فَالْحُجَّةُ لَكَ
مِنْكَ الرَّوْحُ وَ مِنْكَ الْفَرَجُ
سُبْحَانَ مَنْ اَنْعَمَ وَ شَكَرَ
سُبْحَانَ مَنْ قَدَّرَ وَ غَفَرَ
اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتُ عَصَيْتُكَ
فَاِنِّىْ قَدْ اَطَعْتُكَ فِىْ اَحَبِّ الْاَشْيَاۤءِ اِلَيْكَ
وَ هُوَ الْاِ يْمَانُ بِكَ
لَمْ اَتَّخِذْ لَكَ وَلَدًا
وَّ لَمْ اَدْعُ لَكَ شَرِيْكًا
مَّنًّا مِّنْكَ بِهِ عَلَىَّ
لَا مَنًّا مِّنِّىْ بِهِ عَلَيْكَ
وَ قَدْ عَصَيْتُكَ يَاۤ اِلٰهِىْ
عَلٰى غَيْرِ وَجْهِ الْمُكَابَرَةِ
وَ لَا الْخُرُوْجِ عَنْ عُبُوْدِيَّتِكَ
وَلَا الْجُحُوْدِ لِرُبُوْبِيَّتِكَ
وَلٰكِنْ اَطَعْتُ هَوَاىَ
وَ اَزَلَّنِىْ الشَّيْطَانُ
فَلَكَ الْحُجَّةُ عَلَىَّ وَ الْبَيَانُ
فَاِنْ تُعَذِّبْنِىْ فَبِذُنُوْبِىْ
غَيْرُ ظَالِمٍ لِىْ
وَ اِنْ تَغْفِرْلِىْ وَ تَرْحَمْنِىْ
فَاِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيْمٌ۔
اس کے بعد جب تک سانس باقی رہے بار بار کہتا رہے:۔
يَا كَرِيْمُ،يَا كَرِيْمُ۔
اس کے بعد کہے:۔
يَا اٰمِنًا مِّنْ كُلِّ شَيْى
ءٍ وَ كُلُّ شَيْى ءٍ مِنْكَ خَاۤئِفٌ حَذِرٌ
اَسْئَلُكَ بِاَمْنِكَ مِنْ كُلِّ شَيْى
ءٍ وَ خَوْفِ كُلِّ شَيْى ءٍ مِنْكَ
اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَّ اَنْ تُعْطِيَنِىْ اَمَانًا لِنَفْسِىْ وَ اَهْلِىْ
وَ مَالِيْ وَ وَلَدِىْ
وَ سَاۤئِرِ مَا اَنْعَمْتَ بِهِ عَلَىَّ
حَتّٰى لَااَخَافَ وَ لَا اَحْذَرَ مِنْ شَيْى ءٍ اَبَدًا
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْى ءٍ قَدِيْرٌ
وَ حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ
يَا كَافِىَ اِبْرَاهِيْمَ نُمْرُوْدَ
وَ يَا كَافِىَ مُوْسٰى فِرْعَوْنَ
اَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَّ اَنْ تَكْفِيَنِىْ شَرَّ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ۔
اور فلاں بن فلاں کی جگہ اس شخص اور اس کے باپ کا نام لے جس کے شر سے خوفزدہ ہے اور خداوند عالم سے یہ طلب کرے کہ اس کے شر کو دفع کر دے اور خود اس کے لئے کافی ہوجائے۔ اس کے بعد سجدہ میں جا کر اپنی حاجت بیان کرے اور گریہ و زاری کرے کہ کوئی مومن مرد یا عورت ایسی نہیں ہے جو یہ نماز پڑھےاور خلوص کے ساتھ یہ دعا پڑھے اور پھر اس کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھول دیئے جائیں اور اس کی دعااسی رات اور اسی وقت قبول نہ ہو جائے اور یہ سب کداوند عالم کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے جو ہمارے اور تمام بندوں کے شامل حال رہتا ہے۔
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ شیخ طبرسیؒ کے خلف صالح رضی الدین ھسن بن فضل نے بھی اس نماز کو ماکرام الاخلاق میں نقل کیا ہے اور دعا کے شروع میں:۔
‘‘اللھم ان کنت عصیتک’’کے بجائے‘‘ان کنتُ قد عصیتک’’ذکر کیا ہے اور‘‘حتّیٰ لآ اخٰافُ’’کے بعد‘‘اسئلک’’کا اضافہ کیا ہے۔ بقیہ دعا میں کوئی فرق نہیں ہے۔