یس اور قرآن حکیم کے حق کا واسطہ ،
وَ بِحَقِّ طٰهٰ وَ الْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ
طٰہٰ اور قرآن حکیم کا واسطہ ۔
يَا مَنْ يَقْدِرُ عَلٰى حَوَاۤئِجِ السَّاۤئِلِيْنَ
اے وہ پروردگار جو سائکلوں کی حاجت روائی پر قادر ہے۔
يَا مَنْ يَعْلَمُ مَا فِى الضَّمِيْرِ
لوگوں کے دلوں کا حال جانتا ہے۔
يَا مُنَفِّسًا عَنِ الْمَكْرُوْبِيْنَ
رنج وغم کا دور کرنے والا،
يَا مُفَرِّجًا عَنِ الْمَغْمُوْمِيْنَ
ہم وغم سے نجات دینے والا ،
يَا رَاحِمَ الشَّيْخِ الْكَبِيْرِ
بوڑھے پر رحم کرنے والا
يَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِيْرِ
بچہ کو روزی دینے والا
يَا مَنْ لَايَحْتَاجُ اِلَى التَّفْسِيْرِ
جو کسی تفسیر کا محتاج نہیں ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِىْ كَذَا و كَذَا
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میری مشکل کو آسان کر دے۔
اپنی حاجت طلب کریں۔
۵حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کر کے کہا:
رَبِّ لَاتَكِلْنِىْۤ اِلٰى نَفْسِىْ طَرْفَةَ عَيْنٍ اَبَدًا
پالنے والے مجھے کبھی پلک جھپکنے کے وقت کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا
لَا اَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ وَلَا اَكْثَرَ
نہ ہی اس سے کم یا زیادہ وقت کے لیے۔
۶اور امام جعفر صادقؑ سےہی مروی ہے کہ وہ یہ کلمات کہتے تھے۔
اِرْحَمْنِىْ مِمَّا لَاطَاقَةَ لِىْ بِهِ وَلَاصَبْرَ لِىْ عَلَيْهِ
رحم کر مجھ پر ان تکلیفوں میں جن کے لیے مجھ میں طا قت ہے نہ صبر کا یارا ۔
۷حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ حاجات میں اس طرح دعا مانگو:
اَللّٰهُمَّ اِنّىْۤ اَسْئَلُكَ بِجَلَالِكَ وَ جَمَالِكَ وَ كَرَمِكَ اَنْ تَفْعَلَ بِىْ كَذَا وَ كَذَا
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دبدے تیرے جمال اورتیری عطا کا واسطہ دے کر کہ میری یہ ا ور یہ حاجات پوری فرما۔
اپنی حاجت طلب کرے۔
۸فضل بن یونس سے منقول ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظمؑ نے مجھ سے فرمایا کہ کثرت کے ساتھ کہو:
اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِىْ مِنَ الْمُعَارِيْنَ
اے معبود! مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن کا ایمان کچّا ہے
وَ لَا تُخْرِجْنِىْ مِنَ التَّقْصِيْرِ
اور مجھے کوتاہی کرنے والوں میں سے شمار نہ کر۔
یعنی پروردگارا مجھے ان لوگوں میں قرار نہ دینا جن کو تو نے ان کے حال پر اس طرح چھوڑ دیا ہے جس طرح اونٹ کی گردن پر اس کی مہار ڈال دی جاتی ہے اور ا س کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جو چاہے کرے اور جدھر چاہےچلا جائے ۔
اور مجھے تقصیر سے باہر نہ کرنایعنی ایسا نہ کردینا کہ خود اپنے کو مقصر نہ سمجھوں بلکہ ایسا رکھنا کہ ہمیشہ اپنے کو تیری بارگاہ میں مقصر سمجھتا رہوں۔
۹حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ پروردگار عالم نے ایک دیہاتی کو صرف ان دو کلمات کی بنا پر بخش دیا۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ تُعَذِّبْنِىْ فَاَهْلٌ لِذٰلِكَ اَنَا
اے معبود! اگر تو مجھے عذاب دے تو میں اسی لائق ہوں
وَ اِنْ تَغْفِرْلِىْ فَاَهْلٌ لِذٰلِكَ اَنْتَ۔
اگر تو مجھے بخش دے تو یہ تیرے شایانِ شان ہے۔
۱۰داوؤد رقّی سے منقول ہے کہ جس چیز میں حضرت امام صادقؑ سب سے زیادہ گڑ گڑاتے تھے اور اس کے ذریعہ خڈاوند عالم سے دعا کرتے تھے وہ صرف پنجتن پاک یعنی حضرت رسولؐ خدا و امیرالمومنینؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ صلوات اللہ علیہم کے حق کا واسطہ تھا۔
۱۱یزید صایغ سے روایت ہےکہ میں نے حضرت صادقؑ کی خدمت میں عرض کی کہ خداوند عالم سے ہمارے لئے دعا فرمائیں تو حضرتؑ نے ہمارے لئے یہ دعا کی۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْهُمْ صِدْقً الْحَدِيْثِ
اے معبود! تو ان لوگوں کوسچی بات کہنے،
وَ اٰدَاۤءَ الْاَمَانَةِ
امانت ادا کرنے
وَ الْمُحَافَظَةَ عَلَى الصَّلَوَاتِ
اور نماز قائم رکھنے کی توفیق دے
اَللّٰهُمَّ اِنَّهُمْ اَحَقُّ خَلْقِكَ اَنْ تَفْعَلَهُ بِهِم
اے معبود! وہ تیری مخلوق میں سے اس کے زیادہ مستحق ہیں تو ایسا کرے
اَللّٰهُمَّ افْعَلْهُ بِهِمْ۔
اے معبود! تو ان کے لیے ایسا ہی کر۔
۱۲یہ دعا پڑھے جو امیرالمومنینؑ پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ مُنَّ عَلَىَّ بِالتَّوَكُّلِ عَلَيْكَ
اے معبود! مجھ پر یہ احسان فرما کہ تجھ پر بھروسہ رکھوں
وَالتَّفْوِيْضِ اِلَيْكَ
اپنے معاملے کو تیرے حوالہ کردوں
وَالرِّضَا بِقَدَرِكَ
تیری تقدیر پر راضی رہوں
وَ التَّسْلِيْمِ لِاَمْرِكَ
اور تیرے حکم کے آگے جھکوں
حَتّٰى لَاۤ اُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَاۤ اَخَّرْتَ
وہ یوں کہ تیری تاخیر میں جلدی نہ چاہوں
وَ لَاتَاْخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ
اور تیری جلدی میں تاخیر نہ چاہوں
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اے جہانوں کے رب۔
۱۳روایت میں ہے کہ جبرئیل حضرت رسولِؐ خدا کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ آپؑ کا پروردگار فرماتا ہے کہ رات اور دن میں کبھی بھی حق عبادت ادا کرنے کے لئے عبادت کرنا چاہو تو میری طرف اپنے ہاتھ بلند کر کے کہو:
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا
خدایا تیرے لیے وہ حمد ہے
خَالِدًا مَعَ خُلُوْدِكَ
جو تیرے ساتھ باقی رہنے والی ہے
وَ لَكَ الْحَمْدُ
اور تیرے لیے وہ حمد ہے
حَمْدًا لَا مُنْتَهٰى لَهُ دُوْنَ عِلْمِكَ
جس کی کوئی انتہا نہیں ہے
وَ لَكَ الْحَمْدُ
اور تیرے لیے وہ حمد ہے
حَمْدًا لَاۤ اَمَدَ لَهُ دُوْنَ مَشِيَّتِكَ
جس کی کوئی حد نہیں ہے علاوہ میری مشیت کے
وَ لَكَ الْحَمْدُ
اور تیرے لیے وہ حمد ہے
حَمْدًا لَاجَزَاۤءَ لِقَاۤئِلِهِ اِلَّا رِضَاكَ
جس کی کوئی جزا نہیں ہے سوائے میری رضا کے
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ
خدایا تیرے لیے ساری حمد ہے
وَ لَكَ الْمَنُّ كُلُّهُ
سارا احسان تیرے لیے،
وَ لَكَ الْفَخْرُ كُلُّهُ
سارا فخر،
وَ لَكَ الْبَهَاۤءُ كُلُّهُ
ساری وجاہت،
وَلَكَ النُّوْرُ كُلُّهُ
ساری نورانیت،
وَ لَكَ الْعِزَّةُ كُلُّهَا
اور ساری عزّت،
وَ لَكَ الْجَبَرُوْتُ كُلُّهَا
اور ساری طاقت،
وَ لَكَ الْعَظَمَةُ كُلُّهَا
اور ساری عظمت تیرے لیے ہے
وَ لَكَ الدُّنْيَا كُلُّهَا
دنیا تیرے لیے
وَ لَكَ الْاٰخِرَةُ كُلُّهَا
اور آخرت تیرے لیے
وَ لَكَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ كُلُّهُ
لیل و نہار سب تیرے لیے
وَ لَكَ الْخَلْقُ كُلُّهُ
اور ساری مخلوقات تیرے لیے
وَ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ
سارا خیر تیرے ہاتھوں میں ہے
وَ اِلَيْكَ يَرْجِعُ الْاَمْرُ كُلُّهُ
اور ہر امر کی بازگشت تیرے لیے۔
عَلَانِيَتُهُ وَ سِرُّهُ
تمام معاملے وہ ظاہری ہوں یا باطنی
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا اَبَدًا
خدایا تیرے لیے دائمی حمد ہے،
اَنْتَ حَسَنُ الْبَلَاۤءِ
تو بہترین امتحان لینے والا ہے
جَلِيْلُ الثَّنَاۤءِ
قابل تعریف،
سَابِغُ النَّعْمَاۤءِ
کامل نعمتیں دینے والا
عَدْلُ الْقَضَاۤءِ
معادلاً فیصلہ کرنے والا ۔
جَزِيْلُ الْعَطَاۤءِ
تیری عطا جزیل
حَسَنُ الْاٰلَاۤءِ
اور تیرے احسانات عظیم ہیں۔
اِلٰهٌ فِى الْاَرْضِ
تو زمین کا خدا ہے
وَ اِلٰهٌ فِى السَّمَاۤءِ
تو آسمان کا خدا ہے
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فِى السَّبْعِ الشِّدَادِ
خدایا تیرے لیے آسانوں پر حمد
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى الْاَرْضِ الْمِهَادِ
تیرے لیے زمینوں پر حمد،
وَ لَكَ الْحَمْدُ طَاقَةَ الْعِبَادِ
تیرے لیے بندوں کی طاقت
وَ لَكَ الْحَمْدُ سَعَةَ الْبِلَادِ
اور شہروں کی وسعت کے برابر حمد
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى الْجِبَالِ الْاَوْتَادِ
تیرے لیے حمد ٹھوس پہاڑوں میں
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى اللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى
تیرے لیے حمد رات کی تاریکی میں،
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى
تیرے لیے حمد دن کی روشنی میں،
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى
تیرے لیے حمد دنیا و آخرت میں،
وَ لَكَ الْحَمْدُ فِى الْمَثَانِىْ وَالْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ،
تیرے لیے حمد سورۂ حمد اور قرآن مجید میں
وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ
تسبیح خدا کی تعریف اللہ کی
وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
اور زمین و آسمان سب اللہ کے ہیں سب اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔
وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِيْنِهِ
اور آسمان سب اللہ کے ہیں سب اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔
سُبْحَانَهُ وَ تَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ
وہ مشرکوں کے خیالات سے برتر ہے۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ
بے نیاز ہے اس کی تسبیح اور اسی کی حمد ۔
كُلُّ شَيْئٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهُ
ہر شئی اس کے علاوہ فنا ہونے والی ہے ۔
سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَ تَعَالَيْتَ
اے خدائے بے نیاز تو بلند
وَ تَبَارَكْتَ وَ تَقَدَّسْتَ
و بابرکت ہے، پاکیزہ صفات ہے۔
خَلَقْتَ كُلَّ شَيْئٍ بِقُدْرَتِكَ
تو نے ہر شئے کو اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے، ہرشئی پر قادر ہے۔
وَ قَهَرْتَ كُلَّ شَيْئٍ بِعِزَّتِكَ
تیری عزّت ہر چیز سے
وَ عَلَوْتَ فَوْقَ كُلِّ شَيْئٍ بِارْتِفَاعِكَ
بلند و بالاتر ہے۔
وَ غَلَبْتَ كُلَّشَيْئٍ بِقُوَّتِكَ
ہر شئی پر اپنی قوّت سے غلبہ رکھنے والا ہے ۔
وَ ابْتَدَعْتَ كُلَّ شَيْئٍ بِحِكْمَتِكَ وَ عِلْمِكَ
ہر چیز کو اپنی حکمت سے ایجاد کرنے والا ہے۔
وَ بَعَثْتَ الرُّسُلَ بِكُتُبِكَ
رسولوں کو کتابوں کے ساتھ بھیجنے والا ہے،
وَ هَدَيْتَ الصَّالِحِيْنَ بِاِذْنِكَ
نیک بندوں کی ہدایت کرنے والا ہے
وَ اَيَّدْتَ الْمُؤْمِنِيْنَ بِنَصْرِكَ
مومنین کی مدد اور تائید کرنے والا ہے
وَ قَهَرْتَ الْخَلْقَ بِسُلْطَانِكَ
مخلوقات پر غلبہ رکھنے والا ہے۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں،
وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ
کوئی معبود نہیں، تیرا کوئی شریک نہیں
لَا نَعْبُدُ غَيْرَكَ
ہم تیرے غیر کی عبادت نہیں کرتے
وَلَانَسْئَلُ اِلَّاۤ اِيَّاكَ
ہم تیرے علاوہ کسی سے نہیں مانگتے
وَلَانَرْغَبُ اِلَّاۤ اِلَيْكَ
تیرے علاوہ کسی کی طرف نہیں جھکتے
اَنْتَ مَوْضِعُ شَكْوَانَا
تو ہی ہماری شکایتیں سننے والا
وَ مُنْتَهٰى رَغْبَتِنَا
ہماری رغبت کا آخری مقام
وَ اِلٰهُنَا وَ مَلِيْكُنَا
ہمارا معبود اور ہمارا مالک ہے ۔