EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
کفار سے مشابہت کی مذمت
مؤلف کتا شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ بہت ساری آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کفار کی دوستی، ان سےمیل محبت اور زیادہ روابط سے پرہیز کرنا چاہیئے اور ان سے مشابہت اختیار نہ کرنا چاہیئے اور نہ ان کے رسم و رواج کو اپنانا چاہیئے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءَاۤؤُ مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۤءُ اَبَدًا۔
ضرور تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کے کردار میں بہترین نمونۂ عمل ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے بری ہیں اور خدا کےعلاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کی عداوت اور دشمنی ظاہر ہوچکی ہے۔
شیخ صدوقؒ نے حضرت امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ خداوند عالم نے ایک پیغمبر کی طرف یہ وحی فرمائی کہ مومنین سے کہہ دو کہ میرے دشمنوں کا لباس پہننا، نہ ہی ان کے یہاں کھانا کھانا اور نہ ان کے راستے اور ہم و رواج کواختیا رکرنا ورنہ تم بھی اسی طرح میرے دشمن ہو جاؤ گے جس طرح وہ میرے دشمن ہیں۔
اسی لئے بہت سی روایات میں ہے کہ فلاں عمل کو انجام دو اورکفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔