امام موسیٰ کاظم کا سجدہ شکر
اور مستحب یہ ہے کہ اس سجدہ کو طول دے جیسا کہ منقول ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظمؑ طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک اور عصر کے بعد شام تک سجدہ میں رہا کرتے تھے۔
اوردوسری حدیث میں ہےکہ حضرت دس سال سے زیادہ ہر روز طلوع آفتاب سے زوال تک سجدہ میں رہے تھے۔
اور صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ امام رضاؑ اتنی دیر تک سجدہ میں رہتے تھے کہ سنگریزے آپ کے پسینہ سے تر ہو جاتے تھے اور آپ چہرہ کے دائیں اور بائیں دونوں حصوں کو زمین سے ملا دیتے تھے۔
رجال کشی میں ہے کہ فضل بن شاذان نے ابن ابی عمیر کے پاس آئے جب کہ وہ سجدہ میں تھے اور انھوں نے سجدہ کو بہت طول دیا۔ جب سر اٹھایا تو لوگوں نے ان کے سجدے کے طولانی ہونے کا ذکر کیا تو کہا کہ اگر تم جمیل بن درّاج کے سجدے دیکھ لیتے تو میرے سجدے کو کبھی طولانی نہ کہتے۔
پھر میں ایک دن جمیل بن درّاج کے پاس گیا تو انھوں نے بہت دیر تک سجدہ کیا۔ جب سر اٹھایا تو میں نے کہا تم نے بہت دیر تک سجدہ کیا ہے۔
کہا کہ اگر تم معروف بن خرَبوذ کے سجدے کو دیکھ لیتے تو میرے سجدے کو بہت آسان سمجھتے۔
اور فضل بن شاذان ہی نے روایت کی ہے کہ علی بن فضال عبادت کے لئے صحرا میں چلے جاتے تھے اور اتنا طولانی سجدہ کرتے تھے کہ پرندے زمین پر پڑا ہو کپڑا سمجھ کر ان کی پشت پر بیٹھ جاتے تھے اور ان کے گرد جانور گھاس کھاتے رہتے تھے اور ان سے بالکل نہیں ڈرتے تھے
اور یہ روایت بھی ہے کہ جب سورج طلوع ہو تاتھا تو علی بن مہزیار سجدہ میں جاتے تھے اور اس وقت تک سر نہ اٹھاتے تھے جب تک اپنے ایک ہزار بھائیوں کے لئے بالکل اسی طرح دعا نہ کر لیں جس طرح اپنے لئے دعا کی ہے اور طویل سجدوں کی بنا پر ان کی پیشانی پر ایسیا گھٹہ تھا جیسے اونٹ کے پیروں پر گھٹّے ہوتے ہیں۔
اور یہ بھی روایت ہے کہ ابن ابی عمیر نماز صبح کے بعد سجدۂ شکر میں جا کر ظہر تک سر نہیں اٹھا تے تھے
اور افضل یہ ہے کہ سجدۂ شکر کو تمام تعقیبات کے بعد اور نوافل سے پہلے انجام دےاور نماز مغرب کے لئے اکثر علماء نے کہا ہے کہ نوافل کے بعد سجدۂ شکر ادا کرے
اور بعض نوافل سے پہلے بھی کہا جاتا ہے اور ظاہراً دونوں ہی بہتر ہیں اور نوافل سے پہلےبجا لانا زیادہ بہتر ہے جیسا کہ حمیری نے امام زمانہ علیہ السلام سے روایت کی ہے اور اگر دونوں طریقہ سے بجالائے تو شاید اور بہتر ہو گا۔