پروردگار میں تجھ سے سوال کررہا ہوں رات کی آمد
وَاِدْبَارِ نَهارِكَ
اور دن کے جانے کے سہارے،
وَحُضُوْرِ صَلَوَاتِكَ
وقتِ نماز کے آنے کے سہارے،
وَاَصْوَاتِ دُعاۤئِكَ
دعاؤں کے سہارے،
وَتَسْبِيْحِ مَلَاۤئِكَتِكَ
اور ملائکہ کے تسبیحات کی آوازوں کے سہارے
اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَىَّ
کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
کہ تو بہترین مہربان اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے۔
پھر کھڑے ہو کر تمام آداب کے ساتھ نمازِ مغرب پڑھے نماز کے بعد تین تکبیر اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تسبیح کے بعد یہ پڑھے۔
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَاۤئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِىِّ
اللہ و ملائکہ صلوات بھیجتے ہیں پیغمبرؐ پر۔
يَاۤ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
صاحبانِ ایمان تم بھی
صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
صلوات بھیجو اور سراپا تسلیم ہوجاؤ۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِىِّ
خدایا تیرے پیغمبرؐ پر،
وَعَلٰى ذُرِّيَّتِهٖ وَعَلٰى اَهْلِ بَيْتِهِ۔
ان کی ذریّت پر اور ان کے اہل بیتؑ پر صلوات اور رحمت نازل فرما۔
اورسات مرتبہ کہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ۔
اور نہیں کوئی طاقت و قوّت مگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے ملتی ہے۔
پھرتین مرتبہ کہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ يَفْعَلُ مَا يَشاۤءُ
حمد اللہ کے لیے ہے وہ جو چاہے کرتا ہے
وَلَا يَفْعَلُ مَا يَشاۤءُ غَيْرُهُ۔
اور اس کے علاوہ کوئی بھی جو چاہے نہیں کر پاتا۔
پھر یہ کہے۔
سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اِغْفِرْ لِىْ ذُ نُوْبِىْ جَمِيْعًا
میرے سارے گناہ بخش دے
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ كُلَّهَا جَمِيْعًا اِلَّا اَنْتَ۔
کیونکہ کوئی بھی سارے گناہ نہیں بخش سکتا مگر صرف تو ایسا کرسکتا ہے۔
اور اگر اس سے زیادہ تعقیب پڑھنا چاہے تو افضل یہ ہے کہ نافلۂ مغرب کے بعد پڑھے۔ پھر نافلہ پڑھے اور مغرب کا نافلہ دو دو رکعت کرکے چار رکعت ہے اور اور نماز مغرب اور نافلہ کے درمیان بات کرنا مکروہ ہے۔ نافلہ کی پہلی رکعت میں سورۂ قل یا ایہا الکٰفرون، دوسری رکعت میں سورۂ توحید اور بقیہ رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھے۔ اگرچہ مناسب یہ ہے کہ تیسری رکعت میں سورۂ حدید کو شروع سے علیہم بِذَاتِ الصّدوْر تک پڑھے۔
اور چوتھی رکعت میں سورۂ حشر کا آخری حصہ لَوْ اَنْزلنا ھذا القراٰنْ سے آخر تک پڑھے۔
اور اگر صرف حمد پر ہی اکتفا کرنا چاہے تو دوسرے تمام نوافل کی طرح جائز ہے۔
آدابِ بعد نافلہ مغرب
بہتر یہ کہ قرأت بلند آواز سے کرے جیسا کہ تمام نوافل شب میں بلند آواز سے پڑھنا بہتر ہے پڑھ سکتا ہے اور پھر گذشتہ طریقہ کے مطابق سجدۂ شکربجا لائے اور کم سے کم سجدۂ شکر میں کہے:۔
شُكْرًا شُكْرًا شُكْرًا
تیرا شکر ہے ، تیرا شکر ہے، تیرا شکر ہے
شیخ کلینیؒ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم نمازِ مغربسے فارغ ہو تو اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرو اور تین بار کہو۔
بِسْمِ اللهِ الَّذِىْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
خدا کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں
عَالِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ
وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمُ
بڑے رحم والا مہربان ہے
اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّىَ الْهَمَّ وَ الْحَزَنَ۔
اے معبود! تو ہر اندیشہ و غم کو مجھ سے دور کردے۔
اوربہتر یہ ہے کہ نماز غفیلہ پڑھو جس کا طریقہ مفاتیح وغیرہ میں بیان کیا گیا۔