EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
نماز تہجد کی فضیلت
یاد رہے کہ نماز شب کی فضیلت اور اس کے لئے رات کو نیند سے بیدار ہونے کے لئے ائمہ علیہم السلام سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں جن میں یہ صراحت ہے کہ یہ مومن کا شرف ہے۔ اس نماز سے انسان صحت مند رہتا ہے اور یہ دن کے گناہوں کا کفارہ اور وحشتِ قبر کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ چہرہ کو نورانی، بو کو اچھا بناتی ہے اور روزی میں اضافہ کرتی ہے اور جس طرح مال واولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اسی طرح آٹھ رکعت نماز شب نماز وتر کے ساتھ آخرت کی زینت ہیں۔
اور کبھی کبھی خداوند عالم ان دونوں کو جمع کر دیتا ہے اور جو شخص یہ کہے کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور دن میں بھوکا رہتا ہے وہ جھوٹا ہے کیوں کہ نماز شب دن کے رزق کی ضامن ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسولِؐ خدا نے حضرت علیؑ سے یہ روایت فرمائی کہ اے علیؑ میں تمہارے نفس کے بارے میں چند چیزوں کی وصیت کر رہا ہوں لہٰذا ان پر عمل کے ذریعہ انھیں محفوظ رکھنا۔
اس کے بعد فرمایا پروردگار ان کی مدد فرما۔ اس کے بعد چند چیزیں بیان کیں اور فرمایا وعلیک بصلوٰۃ اللیل۔
ظاہر یہ کہ حضرتؐ نے نماز شب سے ۱۳ رکعت نماز مراد لی ہےاور نماز زوال سے مراد وہ آٹھ رکعت نافلہ جو زوال کے وقت پڑھی جاتی ہے مراد لیا ہے اور انس سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے کہ رسولؐ اکرم نے فرمایا کہ رات کے سناٹے میں دو رکعت نماز پڑھنا میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اور روایت میں ہے کہ امام زین العابدینؑ سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جو لوگ نماز شب پڑھتے ہیں ان کے چہرےدوسروں سے زیادہ نورانی ہیں؟
فرمایا کہ لوگ اپنے پروردگار سے تنہائی میں راز ونیاز کی باتیں کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہ انھیں اپنے نور کی چادر اوڑھا دیتا ہے اور اس بارے میں بے شمار روایات ہیں کہ رات کو اس نماز کے لئے نہ اٹھنا مکروہ ہے۔
اور شیخؒ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو ہر را ت ایک یا چند مرتبہ بیدار نہ ہوتا ہو تو اٹھ گیا تو اٹھ ہی گیا اور اگر نہیں اٹھا تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ جو شخص نمازِ شب کے لئے نہیں اٹھتا ہے جب صبح کو بیدار ہوتا ہے وہ دن اس کے لئے بہت گراں اور مشکل ہوتا ہے اور وہ سست رہتا ہے۔
اور شیخ برقیؒ نے امام محمد باقرؑ سے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ ایک شیطان ہے جس کا کام یہ ہے کہ جب کوئی بندہ نمازِ شب کے لئے اٹھنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ابھی اٹھنے کا وقت نہیں ہوا ہے پھر جب دوسری بار بیدار ہوتا ہے اور اٹھنا چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ابھی وقت نہیں ہوا ہے اور اسی طرح اسے مسلسل اٹھنے سے روکتا رہتا ہے۔
یہاں تک کہ طلوع فجر کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے اور اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور اپنی دُم کو ہلاتے ہوئے اپنے اوپرناز کرتا ہے۔
ابن ابی جمہور نے رسولؐ خدا سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایٍا کہ جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کے سرہانے تین گرہیں باندھ دیتا ہے اور ہر گروہ پر لکھتا ہے علیک لیلٌ طویل فارتُد یعنی رات لمبی ہے آرام سے سو جاؤ۔
پھر جب انسان بیدار ہو کر ذکرِ خدا کرتا ہے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وضو کر لیا تو دوسری بھی کھل جاتی ہے اور نماز پڑھ لی تو آخری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پھر جب صبح ہوتی ہے تو وہ با نشاط اور پاکیزہ نفس ہوتا ہے اور اگر بیدارنہ ہو تو خبیث النفس اور سست ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ روایت اہلسنت کی کتابوں میں بھی مذکور ہے اور قطب راوندی نے حضرت امیرالمومنینؑ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ تین چیزوں کے بعد تین چیزوں کی امید نہ کرو پیٹ بھر کے کھانے کے بعد رات میں جاگنے کی پوری رات سونے کے بعد چہرے کو نورانیت اور دنیا سے امان کی ۔اور قطب رواندیؒ نے ہی روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے جناب مریم کے انتقال کے بعد ان کو آواز دی اور کہا۔ اے والدۂ گرامی مجھ سے بات کیجئے۔کیا آپؑ دنیا میں واپس آنا چاہتی ہیں؟ کہا، ہاں تا کہ نماز پڑھوں خداوند عالم کے لئے انتہائی سرد راتوں میں اور گرم دنوں میں روزہ رکھوں اے میرے نورِ نظر یہ رات بہت دشوار ہے۔