فضیلت و اعمال شب و روز جمعہ
واضح رہے کہ شب و روز جمعہ کو تمام راتوں اور دنوں کے مقابلہ میں ایک خاص امتیاز،رفعت،شرف اور بلندی حاصل ہے۔
رسولِ اکرمؐ سے نقل کیاگیا ہے کہ شب جمعہ اور روز جمعہ کے چوبیس گھنٹے ہیں اور ان کا پروردگار ہر گھنٹے میں چھ لاکھ افراد کو آتشِ جہنم سے آزادی عنایت فرماتا ہے۔
امام صادقؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص زوالِ پنجشنبہ سے زوالِ روزِ جمعہ کے درمیان مرجائے، خدا اسے فشار قبر سے محفوظ رکھے گا۔
نیز نقل کیا ہے کہ جمعہ کی ایک خاص حرمت اور اس کا ایک عظیم حق ہے، لہٰذا خبردار اس کی حرمت یا اس کا حق ضائع نہ ہونے پائے اور ان اوقات میں پروردگار کی عبادت میں اور اس کے تقرب حاصل کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ بہترین اعمال انجام دینا چاہئے اور تمام محرمات کو ترک کر دیناچاہئے کہ خدا ان اوقات میں ثواب اطاعت کو دگنا کر دیتا ہے اور گناہوں کے عذاب کو محو کر دیتا ہے اور دنیا و آخرت میں مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے۔
شبِ جمعہ بھی فضیلت میں مثل روز جمعہ ہے اگر انسان اس شب میں نماز اور دعا کے ساتھ شب بیداری کر سکتا ہے تو کرنا چاہئے کہ پروردگار عالم اس رات میں ملائکہ کو مومنین کے احترام کے لئے آسمانِ اوّل پر بھیجتا ہے کہ ان کی نیکیوں کو زیادہ بنائیں اور ان کے گناہوں کو محو کر دیں۔ خدا بہترین مہربان اور کریم ہے۔
حدیث معتبر میں انھیں حضرت امام صادقؑ سے نقل کیا گیا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مومن کسی کام کے لئے دعا کرتا ہے اور پروردگار اس دعا کی قبولیت کو اتنی دیر ٹال دیتا ہے کہ روز جمعہ آ جائے تو اس کی حاجت کو پورا کر دیا جائے اور جمعہ کی برکت سے اس میں اضافہ کر دیا جائے۔
فرمایا کہ بردانِ یوسفؑ نے جب یعقوبؑ سے اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں عنقریب تمھارے لئے پروردگارسے استغفار کروں گا اور انھوں نے استغفار کو شبِ جمعہ کی سحر تک کے لئے ملتوی کر دیا تا کہ یہ دعا قبول ہو جائے۔
انھیں حضرتؑ سے مروی ہے کہ جب شب جمعہ آتی ہے تو دریا کی مچھلیاں پانی سے سر نکالتی ہیں اور صحرا کے جانور آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہیں اور سب پروردگار کو آواز دیتے ہیں، خدایا ہم پر لوگوں کے گناہوں کا عذاب نہ کرنا۔
امام محمد باقر ؑسے منقول ہے کہ پروردگار عالم ایک ملک کو ہر شبِ جمعہ میں عرشِ اعظم سے حکم دیتا ہے اور وہ اسی بلندی سے اوّل شب سے آخر شب تک مالک کی طرف سے آواز دیتا رہتا ہے کہ آیا کوئی بندہ مومن ہے جو طلوع صبح سے پہلے اپنی دنیا و آخرت کے لئے کوئی دعا کرے تا کہ خدا اس کی دعا کو قبول کرے۔آیا کوئی بندۂ مومن ہے جو طلوع صبح سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کر لے تاکہ خدااس کی توبہ کو قبول کر لے۔ آیا کوئی بندۂ مومن ہے جس کی روزی تنگ ہو اور وہ اس سے سوال کرے اور وہ صرف اس کی روزی میں وسعت پیدا کردے۔آیا کوئی بندۂ مومن ہے جو بیمار ہو اور طلوع صبح سے پہلے اس سے التماس کرے اور وہ اسے شفا عافیت عنایت کردے۔ آیا کوئی بندۂ مومن ہے جو گرفتاریوں میں مبتلا ہو اور وہ طلوع فجر سے پہلے سوال کرے اور وہ اسے قید سے رہائی دلا کر اس کے رنج و غم کو دور کردے۔ آیا کوئی بندۂ مومن ہے جو مظلوم ہوا اور طلوعِ فجر سے پہلے اس سے سوال کرے کہ وہ اسے ظالم کے ظلم سے نجات دلا دے اور اس کے حق کا انتقام لے کر اس کا حق اس کے حوالے کردے۔ ملک کی یہ آواز طوعِ فجر تک یوں ہی برقراررہتی ہے۔
امیرالمومنینؑ سے منقول ہے کہ پروردگار نے روز جمعہ کو تمام دنوں پر منتخب اور روزِ عید قرار دیا ہے اور اس کی رات کو بھی وہی مرتبہ بخشا ہے اور روز جمعہ کے فضائل میں سےیہ بھی ہے کہ اگر کوئی انسان اس دن پروردگار سے کسی حاجت کا سوال کرتا ہے تو اس کی حاجت پوری کر دی جاتی ہے اور اگر کوئی جماعت عذاب کی مستحق ہو جائے اور شب جمعہ یا روز جمعہ پروردگار سے دعا کرے تو پروردگار اس کے عذاب کو برطرف کر دیتا ہے، اور جن امور کو شب جمعہ مقدر کرتا ہے انھیں محکم اور مستحکم بنا دیتا ہے۔ لہٰذا شب جمعہ بہترین شب اور روزِ جمعہ بہترین روز ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی گئی ہےکہ شب جمعہ گناہ کرنے سے خصوصیت کے ساتھ پرہیز کرے کہ اس رات کے گناہوں کا عذاب دُہرا ہوتا ہے جس طرح نیکیوں کا ثواب بھی دوہرا ہوتا ہے۔اور اگر کوئی شخص علانیہ شب جمعہ گناہ کرتا ہے تو پروردگار اس کی زندگی بھر کے گناہوں کا حساب کرتاہے اور اس کے عذاب کو دوگنا کر دیتا ہے۔
امام رضا علیہ السلام سے معتبر سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ روزِ جمعہ افضل ترین روز ہے اور پروردگار اس دن نیکیوں کے ثواب کو دوگنا کر دیتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور انسان کے درجات کو بلند کر دیتا ہے۔ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور رنج و غم زائل کر دیتا ہے۔ بڑی بڑی حاجتیں اسی دن پوری ہوتی ہیں۔ مالک اپنے بندوں پر خصوصی مہربانی فرماتا ہے اور ایک بڑی جماعت کو آتشِ جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دن پروردگار سے دعا کرے اور اس دن کے حق کو اور اس دن کی حرمت کو پہچان لے پروردگار عالم اسے آتش جہنم سے آزاد کرد ےگا اور اگر کوئی شخص روز جمعہ یا شب جمعہ مر جائے تو اسےشہیدوں کا ثواب عنایت کرے گا او رقیامت کے دن عذاب الٰہی سے محفوظ محشور ہو گا۔ لیکن اگر کوئی شخص جمعہ کی توہین کرے گا اور اس کے حق کو ضائع کر دے گا کہ نماز جمعہ ادا نہ کرے گا یا حرام سے پرہیز نہ کرے گا تو پروردگار کے لئے لازم ہے کہ اگر توبہ نہ کرے تو اسے آتشِ جہنم میں ڈال دے۔
مختلف معتبر اسناد کے ساتھ امام محمد باقرؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ کوئی دن روزِ جمعہ سے بہتر نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ جمعہ کے دن پرندے بھی آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو سلام کر کے کہتے ہیں کہ آج کا دن بہترین دن ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے معتبر سند کےساتھ نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کا دن حاصل کرے اسے چاہئے کہ عبادت کے علاوہ کسی اور عمل میں مشغول نہ ہو کہ پروردگار اس دن اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے اور اپنی رحمت ان پر نازل کر دیتا ہے۔ مختصر یہ روزشب جمعہ کے فضائل اس مختصر کتاب میں بیان کرنے سے کہیں زیادہ ہیں۔