خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور ان کے سکون میں تعجیل فرما۔
شیخؒ نے فرمایا ہے کہ مستحب ہے کہ سو مرتبہ یہ صلوات پڑھے
صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَ مَلَاۤئِكَتِهِ
اللہ، ملائکہ،
وَ اَنْبِيَاۤئِهِ وَ رُسُلِهِ
انبیاء، مرسلین
وَ جَمِيْعِ خَلْقِهِ
اور تمام مخلوقات کی صلوات
عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدَ
حضرت محمدؐ و آل محمدؐ پر ہو
وَ السَّلَامُ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ
اور سلام ہو ان پر اور ان تمام حضرات پر
وَ عَلٰى اَرْوَاحِهِمْ وَ اَجْسَادِهِمْ
اور ان کی ارواح و اجسام پر
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
اور اللہ کی تمام رحمت و برکت انھیں کے لیے ہے۔
شیخ جلیل ابن ادریس نے کتاب سرائر میں جامع بزنطی سے نقل کیا ہے کہ ابو بصیر کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ظہر و عصر کے درمیان ستّر ۷۰ رکعت نماز کے برابر ہےاور اگر کوئی شخص عصر روز جمعہ کے بعد کہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
الْاَوْصِيَاۤءِ الْمَرْضِيِّيْنَ
جو تیرے پسندیدہ اوصیاء ہیں
بِاَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ
اپنی بہترین رحمتوں کے ساتھ
وَ بَارِكْ عَلَيْهِمْ
اور ان پر برکت نازل فرما
بِاَفْضَلِ بَرَكَاتِكَ
اپنی بہترین برکتوں کے ساتھ
وَ السَّلَامُ عَلَيْهِمْ
سلام ہو ان پر
وَ عَلٰى اَرْوَاحِهِمْ وَ اَجْسَادِهِمْ
اور ان کے ارواح و اجسام پر
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
اور اللہ کی رحمت و برکت سب انھیں حضرات کے لیے ہے۔
تو اس شخص کو اس دن کے جنات و انسان کے تمام اعمال کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا۔مؤلف کا بیان ہے کہ حدیث کے بزرگوں کی کتابوں میں انتہائی معتبر اسناد کے ساتھ اور بیشمار فضیلتوں کے ساتھ وارد ہوئی ہے اور اگر اسے دس مرتبہ یا سات مرتبہ پڑھے تو بہتر ہےــــــ اس لئے کہ امام صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص بھی روز جمعہ عصر کےبعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے دس مرتبہ اس صلوات کو پڑھے اس پر جمعہ سے جمعہ تک اسی ساعت میں فرشتے صلوات پڑھتے رہیں گے۔نیز انھیں حضرت سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن نماز عصر کےبعد اس صلوات کو پڑھو۔
شیخ کلینیؒ نے کافی میں روایت کی ہے کہ ہر جمعہ کے دن نماز ادا کرنے کے بعد اس طرح صلوات پڑھو۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
الْاَوْصِيَاۤءِ الْمَرْضِيِّيْنَ
جو تیرے پسندیدہ اوصیاء ہیں
بِاَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ
اپنی بہترین صلوات
وَ بَارِكْ عَلَيْهِمْ
اور بہترین برکات
بِاَفْضَلِ بَرَكَاتِكَ
انھیں عطا فرما۔
وَ السَّلَامُ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ
ان پر تیرا سلام
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ ۔
اور تیری رحمت و برکت ہو۔
جو شخص بھی جمعہ کے دن نماز عصرکے بعد اس صلوات کو پڑھے گا،پروردگار اسے ایک لاکھ نیکیاں عنایت کرے گا۔ اور اس کے ایک لاکھ محو کر دے گا اور اگر کی ایک لاکھ حاجتیں پوری کر دے گااور اس کے ایک لاکھ درجات بلند کر دے گا۔
نیزشیخؒ نے فرمایا ہے کہ روایت میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ جو شخص اس صلوات کو سات مرتبہ پڑھے گا، پروردگار اسے ہر بندہ کے برابر نیکی عنایت فرمائے گا اور اس کے اعمال اس دن میں مقبول ہوں گے اور روز قیامت اس شان سے آئے گا کہ اس کی پیشانی سے نور ساطع ہو گا۔
انشہ وہ روز عرفہ کے اعمال کے ذیل میں ایک صلوات کا اور ذکر ہوگا جس کا پڑھنے والا محمدؐ و آل محمدؐ کی خوشنودی کا حق دار ہو گا۔۲۸نماز عصر کے بعد ستّر مرتبہ کہے:۔
اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ۔
میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔
تا کہ پروردگار اس کے تمام گناہوں کو معاف کردے۔
۲۹سو مرتبہ سورۂ اناانزلناہ پڑھے کہ امام موسیٰ کاظمؑ سے روایت ہوئی ہے کہ پروردگار کی طرف سے روز جمعہ کے لئے ہزار نسیم رحمت ہے جس میں سے ہر بندہ کو اپنی مشیت کے مطابق عطا فرماتا ہے لیکن اگر کوئی شخص عصر روز جمعہ کے بعد سو مرتبہ اناانزلناہ پڑھ لے تو پروردگار ہزار میں بھی اضافہ کر دیتا ہے۔
۳۰ دعائے عشرات پڑھے جس کا ذکر اس کے بعد آنے والا ہے۔۳۱شیخ طوسیؒ کا ارشاد ہے کہ قبولیت دعا کی ساعت روز جمعہ کی آخری ساعت ہے لہٰذا اس وقت زیادہ دعا کرنی چاہئے۔روایت میں یہ بھی وارد ہواہے کہ وقت قبولیت وہ وقت ہے جب آدھا سورج ڈوب جائے کہ جناب فاطمہؑ ایسے ہی وقت میں دعا فرمایا کرتی تھیں۔ اور مستحب ہے کہ اس وقت میں وہ دعا پڑھے جو رسول اکرمؐ سے نقل کی گئی ہے۔
سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
پاک و پاکیزہ ہے تو اے خدا تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ
اے مہربان اے محسن
يَا بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے
يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ۔
اے صاحبِ جلال و اکرام۔
اس کے علاوہ روز جمعہ کی آخری ساعت میں دعائے سمات بھی پڑھے جس کا ذکر آئندہ آنے والا ہے۔