معصومین علیہم السلام سے منسوب ہفتوں کے دن
سید بن طاؤسؒ نے جمال الاسبوع میں فرمایا ہے کہ ابن بابویہ علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ صقر بن ابی دلف سے روایت کی ہے کہ
جب متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کو سامرہ طلب کیا تو ایک دن میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ کے حالات دریافت کروں۔ اس وقت حضرت ، زراقی دربان متوکل کی قید میں تھے۔ جب میں وہاں پہنچا تو اس نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا ؟
میں نے کہا کہ میں آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں۔
اس کے بعد ایک ساعت وہاں بیٹھا رہا اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔
یہاں تک کہ جب تمام لوگ چلے تو اس نے پھر پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟
میں نے پھر وہی جواب دیا
تو اس نے کہا کہ شاید تم اپنے مولا کی خبر گیری کے لئے آئے ہو۔
میں نے ڈر کر یہ کہا کہ میرا مولا خلیفہ ہے۔
اس نے کہا کہ خاموش ہو جاؤ تمہارا مولا برحق ہے اور یہی میرا عتقاد بھی ہے۔
میں نے کہا الحمدللہ۔
اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا تم ان سے ملنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا بے شک ، اس نے کہا تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ تاکہ صاحب البریدان کے پاس سے باہر آ جائے۔
میں منتظر رہا یہاں تک کہ وہ شخص باہر نکل گیا تو اس وقت اس نے ایک بچہ کو حکم دیا کہ مجھے حضرت کے پاس لے جائے ۔
جب میں حضرت کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور سامنے ایک قبر کھدی ہوئی ہے۔ میں نے سلام کیا۔ آپ نے جواب دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد دریافت کیا کہ کیسے آنا ہوا؟
میں نے کہا کہ آپ کی خبرگیری کے لئے حاضر ہوا ہوں۔
اس کے بعد جب میری نگاہ قبر پر پڑی تو میں رونے لگا۔ فرمایا کہ گریہ نہ کرو ۔ اس وقت مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہے۔
میں نے کہا الحمداللہ ۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ میں نے رسول اکرم ؐ کی ایک حدیث سنی ہے جس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ہیں۔
فرمایا وہ حدیث کیا ہے؟
میں نے عرض کیا کہ حضور نے فرمایاہے ایاّم سے دشمنی نہ کرو کہ وہ تم سے دشمنی کریں گے۔
تو آپ نے فرمایا کہ یہاں ایّام اور دنوں سے مراد ہم لوگ ہیں۔ جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں۔ شنبہ رسول خداؐ کا نام ہے ،یکشنبہ امیر المومنینؑ ہیں، دوشنبہ حضرت حسنؑ و حسینؑ ہیں ، سہ شنبہ علیؑ بن حسینؑ ، محمدؑ بن علی ؑ اور جعفر ؑ بن محمدؑ ہیں ۔چہار شنبہ موسیٰؑ بن جعفرؑ ، علیؑ بن موسیٰؑ اور محمدؑ بن علی علیہ السلام ہیں۔ اور میں ہوں پنجشنبہ میرا فرزند حسن ہے اور جمعہ میرے فرزند کا فرزند ہے۔ یہ ہیں ایام کے معنی۔ لہٰذا خبر دار ان سے دنیا میں دشمنی نہ کرنا اور نہ یہ آخرت میں اس کا انتقام لیں گے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اب جاؤ چلے جاؤ کہ تمہارے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ تمہیں بھی کوئی اذیت پہنچ جائے۔
سیدؒ نے اسی حدیث کو دوسری سند سے قطب راوندی ؒ سے نقل کیا ہے اور اس کے بعد زیارتیں بھی نقل کی ہیں کہ روز شنبہ رسول اکرمؐ کی زیارت اس طرح کی جائے ۔