وَ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ وُلْدِيْ
وَ مَنْ كَانَ مِنِّيْ بِسَبِيْلٍ
اِلشَّاهِدَ مِنْهُمْ وَ الْغَاۤئِبَ
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنَا بِحِفْظِ الْاِيْمَانِ وَ احْفَظْ عَلَيْنَا
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ
وَ لَا تَسْلُبْنَا فَضْلَكَ
اِنَّاۤ اِلَيْكَ رَاغِبُوْنَ
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاۤءِ السَّفَرِ
وَ كَابَةِ الْمُنْقَلَبِ
وَ سُوْۤءِ الْمَنْظَرِ فِيْ الْاَهْلِ وَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ
فِيْ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ هٰذَا التَّوَجُّهَ
طَلَبًا لِمَرْضَاتِكَ وَ تَقَرُّبًا اِلَيْكَ
فَبَلِّغْنِيْ مَاۤ اُؤَمِّلُهُ وَ اَرْجُوْهُ
فِيْكَ وَ فِيْۤ اَوْلِيَاۤئِكَ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اس کے بعد گھر والوں کو رخصت کر کے دروازہ پر آکر کھڑا ہواور تسبیح جناب فاطمہؑ پڑھے اور سورۂ حمد پڑھے سامنے داہنے اور بائیں اور اسی طرح تینوں طرف رخ کر کے آیۃالکرسی پڑھے اور یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِلَيْكَ وَجَّهْتُ وَجْهِيْ
وَ عَلَيْكَ خَلَّفْتُ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ مَا خَوَّلْتَنِيْ
وَ قَدْ وَثِقْتُ بِكَ فَلَا تُخَيِّبْنِيْ
يَا مَنْ لَا يُخَيِّبُ مَنْ اَرَادَهُ
وَ لَا يُضَيِّعُ مَنْ حَفِظَهُ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
وَ احْفَظْنِيْ فِيْمَا غِبْتُ عَنْهُ
وَ لَا تَكِلْنِيْۤ اِلٰى نَفْسِيْ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اس کے بعد گیارہ مرتبہ سورۂ قل ھواللہ پڑھے اور سورۂ انّا انزلناہُ اور آیۃالکرسی اور سورۂ ناس اور سورۂ فلق کی تلاوت کرے اور اپنے ہاتھوں کو سارے جسم پر ملے اور بقدرِ امکان صدقہ دے اور پھر کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اشْتَرَيْتُ بِهٰذِهِ الصَّدَقَةِ سَلَامَتِيْ
وَ سَلَامَةَ سَفَرِيْ وَ مَا مَعِيَ
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِيْ وَ احْفَظْ مَا مَعِيَ
وَ سَلِّمْنِيْ وَ سَلِّمْ مَا مَعِيَ
وَ بَلِّغْنِيْ وَ بَلِّغْ مَا مَعِيَ
بِبَلَاغِكَ الْحَسَنِ الْجَمِيْلِ۔
اس کے علاوہ اپنے ساتھ بادام تلخ کی لکڑی کا عصا بھی رکھیں کہ روایت میں ہے کہ جو شخص بادام تلخ کی لکڑی لے کر نکلے گا اور قرآن مجید کی یہ آیت
سے
تک پڑھے گا جو سورۂ قصص میں ہے۔ پروردگار اس کو ہر طرح کے درندے سے اور ہر ظلم کرنے والے ڈاکو کو ہر زہریلے جانور سے اسوقت تک محفوظ رکھے گا جب تک اپنے گھر واپس نہ آجائے گا اور اس کے ساتھ ستّر۷۰؍ ملک رہیں گے جو اس کے حق میں اسوقت تک استغفار کرتے رہیں گے جب تک وہ پلٹ کر اس عصا کو رکھ نہ دے۔ اور یہ بھی مستحب ہے کہ جب گھر سےنکلے تو عمامہ پہن کر نکلے اور اس کا ایک سرا اپنی گردن کے نیچے لٹکا دے تا کہ کسی چور یا جلنے ڈوبنے کے خوف سے محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ تھوڑی سی خاکِ تربتِ امام حسینؑ بھی ساتھ رکھیں اور اس کو ساتھ رکھتے وقت یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰهُمَّ هٰذِهِ طِيْنَةُ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
وَلِيِّكَ وَ ابْنِ وَلِيِّكَ
اِتَّخَذْتُهَا حِرْزًا لِمَا اَخَافُ وَ مَا لَاۤ اَخَافُ
اس کے علاوہ اپنے ساتھ عقیق، فیروزہ، خصوصاً عقیق زرد کی انگوٹھی رکھیں جس پر ایک طرف
مَا شَاۤءَ اللهُ
لَا قُوَّة َاِلَّا بِاللهِ
اَسْتَغْفِرُ اللهَ۔
نقش ہو اور دوسری طرف لکھا ہو۔
مُحَمَّدٌ وَ عَلِىٌّ