شاہ عبّاس کا امام رضاؑ کی زیارت کے لئے پیدل جانا
۴صاحبِ مطلع الشمس نے نقل کیا ہے کہ ۲۵؍ذی الحجہ ۱۰۰۶ھ میں شاہ عباس اول وارد مشہد مقدس ہوا تو دیکھا کہ حرم مطہر کو عبدالمومن خاں ازبکی نے غارت کر دیا ہے اور سوائے ایک حجرہ کے اور کچھ نہیں چھوڑ ا ہے۔ چنانچہ وہ ۲۸؍ ذی الحجہ کو مشہد سے ہرات گیا اور ہرات کو فتح کرنے کے بعد جب وہاں سے واپس مشہد آیا تو ایک ماہ قیام کر کے صحن مقدس کی مرمت کرائی، خدام حرم مبارک کے داتھ بہترین برتاؤ کیا پھر عراق واپس آیا اور آخر ۱۰۰۸ھ میں دوبارہ مشہد مقدس کی زیارت کو گیا اور سردیاں وہاں گذاریں اور حرم طہر کی خدمت کرتا رہا۔ رات کو شمع کا گل جھاڑتا تھا۔ اس کے بارے میں شیخ بہائی نے فی البدیہہ یہ رباعی لکھی تھی۔
پیوستہ بود ملایک علیین٭٭٭پروانۂ شمع روضۂ خلد آیین --------- مقراض بہ احتیاط زن ای خادم٭٭٭ترسم ببری شہپر جبریلِ امین
‘‘ملائکہ سماوات مسلسل شمعِ روضۂ مبارک کے پروانے بنے ہوئے ہیں۔ اے خادم مولا قینچی کو آہستہ چلانا کہیں ایسا نہ ہو کہ شہپر جبریلِ امین قطع ہو جائیں۔’’ اور ۱۰۰۹ھ میں شاہ عباس اپنی نذر کی بنا پر پیدل مشہد مقدس کی زیارت کے لئے حاضر ہوا اور اٹھائیس۲۸؍ دن میں طویل مسافت طے کی جس کے بارے میں صاحبِ تاریخ عالم آرا نے یہ اشعار نقل کئے ہیں۔
غلام شاہ مروان شاہ عباس٭٭٭شہِ والا گُہر خاقان امجد-------- بطوف مرقد شاہ خراسان٭٭٭پیادہ رفت با اخلاص بیحد -------پیادہ رفت شد تاریخ رفتن٭٭٭زاصفہان پیادہ تا بمشہد۱۰۰۹---------‘‘شاہ مروان کا غلام شاہ عباس جو والا گُہر اور خاقان بزرگ ہے۔ وہ طواف مرقد شاہ خراسان کے لئے اخلاصِ بیحد کے ساتھ پیدل گیا اور پیدل جانا ہی اس کی تاریخ بن گیا یعنی‘‘زاصفہان پیادہ تا بمشہد۱۰۰۹۔’’
مشہد مقدس پہنچنے کے بعد صحن مبارک کو وسعت دی اور علی شیر کے ایوان کو جہاں سے درگاہ روضۂ مبارک کا آغاز ہوتا تھا اور ایک گوشہ میں تھا اور بدنما معلوم ہوتا تھا اسے درمیان میں قرار دے کر وہ ایوان جو اس کے مقابلہ میں دوسری طرف تھا اس کو بھی بنایا اور غربی شہر سے مشرقی دروازہ تک راستے بنا دیئے جو ہر طرف سے اس صحن تک پہنچتے ہیں اور پھر چشمے اور نہریں جاری کر کے شہر تک پہنچا دیں۔ ایک نہر بیچ خیابان سے اور ایک بڑا حوض وسطِ صحن میں بنایاجس کا پانی حوض سے گذر کر مشرقی سڑک کی طرف جاتا تھا۔