EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
آداب سرداب مقدس
زیارت سے پہلے ضرورت ہے کہ اس امر کی وضاحت کر دی جائے جو کتاب ہدیہ میں کتاب تحیہ سے نقل کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ سرداب مطہر اُن بزرگوں کے گھر کے اندر تھا اور وہاں داخل ہونے کا راستہ نئی تعمیر اور حرم وقبہ بننے سے پہلے سرہانے کی طرف نزدیک قبر جناب نرجسؑ تھا اور شاید اس وقت رواق میں ہو کہ وہیں سے لوگ نیچے جاتے تھے اور وہاں ایک دالان تعمیر تھا۔ جب وہاں سے گذرتے تھے تو در سرداب غیبت تک پہنچ جاتے تھے جس پر آج کل آئینہ کاری ہو گئی ہے۔ اور قبلہ کی طرف صحن میں راستہ بھی بن گیاہے اور وہ دروازہ جو درمیان سرداب سے کھلتا تھا وہاں فی الحال ایک محرابی شکل کا دروازہ بنا ہوا ہے۔ اس زمانہ میں تینوں ائمہ کے بارے میں تمام اعمال ایک ہی حرم میں ہوتے تھے اس لئے شہید اولؒ نے زیارت عسکریین کے بعد ہی زیارت سرداب کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد زیارت نرجس خاتون کا ذکر کیا ہے۔ تقریباً ایک سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا کہ احمد خان دنبلی نے عظیم رقم خرچ کر کے دونوں ائمہ کے حرم کو ویسے بنا دیا جیسے آج ہیں۔ اور ان کو الگ کر کے روضہ و رواق و قبہ بنا دیا اور سرداب مطہر کے لئے الگ صحن اور ایوان بنا دیا جس کے لئے الگ راستہ ہے اور اس کی سیڑھیاں اور دہلیز بھی ہے اور ایک سرداب مستقل عورتوں لے لئے ہے جیسا کہ آج کل دیکھا جا سکتا ہے۔ اب پہلا راستہ اور اس کی سیڑھیاں اور وہ دروازہ بند ہو گیا ہے اور اس کی کوئی نشانی بھی نہیں ہے لہٰذا بعض آداب کا اب محل ہی ختم ہو گیا ہے لیکن زیارت اصل سرداب شریف میں کوئی تغیر نہیں ہو اہے۔ اب جہاں تک اذن دخول کا تعلق ہے تمام زیارات کو دیکھنے کے بعد اور علماء کی تصریحات کو دیکھنے کے بعد ہر معصوم کے حرم میں ان آداب کی رعا یت ضروری ہے اور بغیر اذن کے داخل ہونا صحیح نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم کیفیت زیارت کا آغاز کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اذنِ دخول خاص سرداب مطہر وہی زیارت جو ابھی بعد میں آنے والی ہے اور جس کا آغاز
اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا خَلِيْفَةَ اللهِ
سے ہوتا ہے۔ اس کو سرداب کے دروازہ پر کھڑے ہو کر داخلہ سے پہلے پڑھے۔ دوسرا اذنِ دخول جس کو سید بن طاؤسؒ نے ذکر کیا ہے جو تقریباً اسی سے ملتا جلتا ہے اور اس کو زیارت کی فصل دوم میں نقل کیا جا چکا ہےاور ایک اور اذنِ دخول جس کو علامہ مجلسیؒ نے قدیم نسخہ سے نقل کیا ہے جس کی ابتداء
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذِهِ بُقْعَةٌ طَهَّرْتُهَا
وَ عَفْوَةٌ شَرَّفْتَهَا …
ہے کہ ہم نے اس کو بھی اذنِ دخول عمومی میں نقل کر دیا ہے۔ بہرحال ان کلمات سے اجازت لینے کے بعد آگے بڑھے اور داخل سرداب مطہر ہو کر آنحضرت کی زیارت کرئیے جس طرح خود حضرت نے دستور دیا ہے۔