حکایت سیّد رشتی
ہمارے استاد نے نجم الثاقب میں ایک حکایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زیارت کی پابندی ضروری ہے اور اس سے غفلت نہیں ہونی چاہیئے۔ حکایت یہ ہے کہ جناب محترم مرد متقیِ نیک کردار سید احمد بن سید ہاشم بن سید حسن موسوی رشتی جو تاجر تھے اور سترہ سال قبل نجف اشرف میں مشرف ہوئے۔ عالم ربّانیِ بزرگوار جناب شیخ علی رشتی تاب ثراہ جن کا ذکر آئندہ ہونے والا ہےمؤلّف! اس زیارت کوشیخؒ نے تہذیب میں نقل کیا ہے اور اس کے بعد ایک دعاء وداع نقل کی ہے جس کو اختصار کی بنا پر ہم نے ترک کر دیا ہے۔ یہ زیارت بقول علامہ مجلسیؒ باعتبار عبارت و سند و فصاحت و بلاغت بہترین زیارت احسن و اکمل زیارت ہے اور میں جب تک عتبات عالیات میں رہا ائمہ کی یہی زیارت پڑھتا رہا۔ ہمارے استاد نے نجم الثاقب میں ایک حکایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زیارت کی پابندی ضروری ہے اور اس سے غفلت نہیں ہونی چاہیئے۔ حکایت یہ ہے کہ جناب محترم مرد متقیِ نیک کردار سید احمد بن سید ہاشم بن سید حسن موسوی رشتی جو تاجر تھے اور سترہ سال قبل نجف اشرف میں مشرف ہوئے۔ عالم ربّانیِ بزرگوار جناب شیخ علی رشتی تاب ثراہ جن کا ذکر آئندہ ہونے والا ہے، کے ساتھ حقیر کے غریب خانہ پر تشریف لے آئے اور جاتے وقت شیخ نے سید محترم کے حسن کردار اور ان کی نیکی کے بارے میں اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان کا ایک عجیب قصہ ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت بیان کا امکان نہیں تھا لہٰذا چند دنوں کے بعد جب ملاقات ہوئی تو انھوں نے فرمایا وہ سید چلے گئے اور اس کے بعد قصہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور مجھے بے حد افسوس ہوا کہ میں نے اس قصہ کو خود ان سے کیوں نہ سُنا اگرچہ شیخ مرحوم کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ نقل کرنے میں کسی طرح کی خیانت کریں۔ اُس وقت سے چند ماہ پہلےتک یہ مطلب میرے دل میں رہا یہاں تک کہ اس سال کے ماہ جمادی الثانیہ میں جب نجف اشرف سے واپس ہوا تو کاظمین میں میں نے ان سید بزرگ سے ملاقات کی جو سامرہ سے واپس آئے تھے اور عجم کی طرف جارہے تھے اور جو حالات مین نے سُنے تھے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ انھوں نے قصہ کو اس طریقہ سےنقل کیا کہ ۱۲۸۰ھ میں حج بیت اللہ کے ارادہ سے رشت سے تبریز آیا اور حاجی صفر علی تاجر تبریزی کے گھر میں قیام کیا۔ چونکہ کوئی قافلہ نہیں تھا لہٰذا میں پریشان تھا یہاں تک کہ حاجی جبار جلوداراصفہانی نے سامان اٹھایا اور طرابوزن کی طرف چلنے لگے میں نے بھی ان کے ساتھ سواری کرایہ پرلی اور چل پڑا۔ پہلی منزل پر پہنچا تو تین آدمی اور حاجی صفر علی کے آمادہ کرنے پر میرے ساتھ ہو گئے ۔ ایک آدمی ملا باقر تبریزی جو علماء کے درمیان مشہور تھے اور ایک سید حسین تاجر تبریزی اور ایک حاجی علی نام کے خدمتگذار تھے۔ ہم سب ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ منزل ارزنۃ الروم پہونچے اور وہاں سے ارادہ طرابوزن کا تھا کہ ایک منزل پر ان دونوں شہروں کے درمیان حاجی جبار چلو دار میرے پاس آئے اور کہا یہ منزل جو اس کے بعد ہے وہ قدرے خطرناک ہے لہٰذا سامان فوراً لا دیجئے تا کہ قافلہ کے ساتھ چلیں کیونکہ عام طور سے ہم لوگ قافلہ سے الگ الگ رہتے تھے۔ ہم نے بھی تقریباً ڈھائی یا تین گھنٹہ صبح سے پہلے قافلہ کے ساتھ حرکت کر دی۔ آدھا یا تین چوتھائی فرسخ اپنی جگہ سے دور ہوئے تھے کہ فضا تاریک ہو گئی اور برفباری شروع ہو گئی۔ تمام رفقاء نے اپنے سر کو ڈھانک لیا اور مجھ سے تیز تر چلنے لگے ۔ میں بھی انھیں کے ساتھ چل پڑا جو میرے لئے ممکن نہیں تھا یہاں تک کہ وہ سب نکل گئے اور میں تنہا رہ گیا تو گھوڑے سے اتر کر میں راستہ کے کنارہ بیٹھ گیا اور انتہائی پریشان تھا کہ میرے ساتھ تقریباً چھ سو ۶۰۰ تومان بھی تھے۔ کافی غور و فکر کے بعد میں نے یہ طے کیا کہ اسی مقام پر صبح تک رہیں گے اور جس منزل سے آئیں ہیں واپس ہو جائیں گے اور وہاں سے چند افراد کو ساتھ لے کر قافلہ سے ملحق ہو جائیں گے۔ اس وقت میں نے اپنے کو ایک باغ کے سامنے دیکھا کہ اس باغ میں ایک باغبان تھا جو ہاتھ میں بیلچہ لئے ہوئے تھا اور درختوں پر مار کر برف کو گرا رہا تھا وہ میرے قریب آیا اور کہا کہ تم کون ہو۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھی چلے گئے مین اکیلا رہ گیا ہوں اور راستہ نہیں معلوم ہے۔ انھوں نے فارسی میں فرمایا کہ نافلہ شب پڑھو تاکہ راستہ مل جائے۔ میں مشغول نافلہ ہو گیا۔ جب اس سے فارغ ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ تم ابھی تک گئے نہیں۔ میں نے کہا مجھے راستہ نہیں معلوم ہے۔ فرمایا جامعہ پڑھو مجھے جامعہ یاد نہیں تھا اور ابھی تک یاد نہیں ہے حالانکہ مکرر زیارت عتبات عالیات سے مشرف ہوا ہوں۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور تمام جامعہ کو اول سے آخر تک حافظہ سے پڑھا اور پھر فرمایا کہ تم ابھی تک نہیں گئے مجھے بے اختیار رونا آگیا۔ میں نے کہا میں راستہ نہیں جانتا ۔ فرمایا زیارت عاشورہ پڑھو۔ مجھے زیارت عاشورہ بھی یاد نہیں تھی اور ابھی تک یاد نہیں ہے۔ لیکن میں اٹھا اور مشغول زیارت عاشورہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ تمام سلام، لعن اور دعائے علقمہ پڑھ لیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ آئے اور فرمایا کہ ابھی تک نہیں گئے؟ میں نے کہا کہ اب میں صبح تک رہوں گا۔ فرمایا کہ میں تمہیں ابھی قافلہ تک پہونچائے دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر خچر پر سوار ہوئے اور بیلچہ کو کاندھے پر رکھا اور فرمایا کہ میرے ساتھ تم بھی سوار ہو جاؤ۔ میں سوار ہوا۔ اس کی لگام کو کھینچا وہ نہ چلا توفرمایا کہ لاؤلگام تم مجھے دے دو۔ میں نے دےدی ۔ انھوں نے بیلچہ کو بائیں کاندھے پر رکھا اور اپنے داہنے ہاتھ سے اس کی لگام کو کھینچا ، وہ چل پڑا اور نہایت سکون کے ساتھ چلنے لگا ۔ انھوں نے اپنے ہاتھ کو میرے زانوں پر رکھا اور فرمایا کہ تم نافلہ شب کیوں نہیں پڑھتے ہو؟ نافلہ پڑھو، نافلہ پڑھو، نافلہ۔ پھر فرمایا عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے ہو۔ عاشورہ پڑھو۔ عاشورہ۔ عاشورہ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جامعہ کیوں نہیں پڑھتے ہو۔ جامعہ پڑھو ۔ جامعہ۔ جامعہ ۔ اور مسافت طے کرتے وقت بھی وہ دائرہ کی شکل میں چل رہے تھے کہ ایک مرتبہ مڑے اور فرمایا کہ یہ ہیں تمہارے رفقاء جو ایک نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے ہیں اور نماز صبح کے لئے وضو میں مشغول ہیں۔ میں اس خچر سے اُترا ور اپنے گھوڑے پر سوار ہونے لگا تو وہ قابو میں نہ آیا ۔ جس کے بعد وہ خود پیدل ہوگئے اور انھوں نے اپنے بیلچہ کو برف میں گاڑ دیا اور مجھے سوار کیا اور گھوڑے کے سر کو رفقاء کی طرف موڑ دیا۔ مجھے اس وقت یہ خیال آیا کہ یہ شخص کون تھا؟ جو فارسی بول رہا تھا حالانکہ اس علاقہ میں ترکی کے علاوہ کوئی زبان اور عیسائی کے علاوہ کوئی مذہب نہیں ہے، پھر اس تیزی سے انھوں نے رفقاء تک کیسے پہونچا دیا ۔ میں نے جب مڑ کے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا اور کہیں دور دور آثار نہیں دکھائی دیئے اور میں اپنے رفقاء سےملحق ہو گیا۔