EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
مُردوں کے لئے ہدیہ بھیجنے کی تاکید
اسکے بعد سیدؒ نے فرمایا ہے کہ جس وقت انسان قبرستان مین قبور مومنین کے درمیان رہے تو گیارہ مرتبہ سورۂ قل ہو اللہ پڑھے اور اس کا ثواب اموات کو ہدیہ کر دے۔ روایت میں وارد ہوا ہے پروردگار اسے ان تمام مردوں کے برابر ثواب دیتا ہے جو اس قبرستان میں ہیں۔ کامل الزیارات میں امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہآپ نے فرمایا کہ اگر طلوع آفتاب سے پہلے مُردوں کی زیارت کرو تو وہ سن بھی لیتے ہیں اورجواب بھی دیتے ہیں اور اگر طلوع آفتاب کے بعد زیارت کرو تو سن لیتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے ہیں دعوات راوندی میں ایک حدیث ہے جو رسول اکرمؐ سے منقول ہے کہ رات میں زیارت نہ کیا کرو۔ مجموعہ شیخ شہیدؒ میں رسول اکرمؐ سے نقل کیا گیا ہے کوئی شخص کسی قبر کے پاس اگرتین مرتبہ یہ فقرات کہتا ہے
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَسْاَلُكَ
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اَنْ لَا تُعَذِّبَ هٰذَا الْمَيِّتَ
تو پروردگار خود اس سے بھی روز قیامت عذاب کو دور کر دیتا ہے۔ جامع الاخبار سے نقل کیا گیا ہے کہ بعض اصحاب نے رسول اکرمؐ کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت نے فرمایا کہ اپنے مُردوں کے واسطے ہدیہ بھیجو ہم نے عرض کی کہ مُردوں کا ہدیہ کیا ہے؟ فرمایا صدقہ اور دعا کہ ارواح مومنین جمعہ کو آسمان دنیا پر اپنے گھروں کے سامنے تک آتی ہیں اور انتہائی دردناک آواز کے ساتھ آواز دیتے ہیں۔ اے میرے گھر والو! اے میری اولاد! اے میرے ماں باپ!اے میرےاقرباء! میرے حال پر مہربانی مہربانی کرو ان اموال سے جو میرے ہاتھوں میں تھے آج ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے اور اس کا نفع دوسروں کے واسطے ہے اور اس کے بعد اپنے اقرباء کو آواز دیتے ہیں کہ ہم پرایک درہم، ایک ٹکڑا روٹی یا ایک کپڑے کے ذریعہ مہربانی کرو کہ پروردگار تم کو لباس بہشت عنایت کرے گا۔ یہ کہہ کر رسول اکرمؐ نے گریہ فرمایا اور ہم سب بھی رونے لگے اور آپ شدتِ گریہ کی بنا پر کچھ نہ فرما سکے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ تمہارے برادران دینی ہیں جو پیوند خاک ہو گئے ہیں سرور ونعمت کی زندگی گذارنے کے بعد۔ اب یہ اپنے واسطے عذاب و ہلاکت کو دیکھ کر فریاد کر رہے ہیں اور کہتے ہیں وائے ہو ہمارے حال پر۔ کاش جو ہمارے پاس تھا اس کو ہم نے خود ہی اطاعت و رضا کی راہ میں صرف کر دیا ہوتا تا کہ آج تمہارے محتاج نہ ہوتے۔ اور یہ کہہ کر حسرت وپشیمانی کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں اور پھر آواز دیتے ہیں۔ اےا ہلِ خانہ اپنے مُردوں کا صدقہ جلدی بھیجو۔ انھیں حضرت سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو صدقہ مُردہ کے واسطے دیا جاتا ہے اسے ایک ملک طبق نور میں رکھ کر لے جاتا ہے اور ساتھ میں آسمان تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے یہ ےتمہارے گھر والوں نے تمہارے واسطہ ہدیہ بھیجا ہے۔ تو مُردہ اس کے بعد اسے لے کر اپنی قبر میں چلا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی قبر میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ فرما یا آگاہ رہو جو شخص بھی کسی مُردہ پر صدقہ کے ذریعہ مہربانی کرے گا پروردگار کے یہان اس کا اجر کوہِ احد کے مانند ہے اور روز قیامت وہ سایۂ عرش الٰہی میں رہے گا جس دن سوائے خدا کے اور کسی کا سایہ نہ ہو گا۔ یاد رکھو کہ اسی صدقہ سے زندہ و مردہ دونوں کو نجات حاصل ہوتی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ امیر خراسان کو خواب میں دیکھا گیا جو کہہ رہا تھا کہ میرے واسطے وہی بھیج دو جو اپنے کتوں کے سامنے ڈال دیا کرتے ہو۔ میں فی الحال اس کا بھی محتاج ہوں۔