اَللّٰهُمَّ اِنَّ ذُنُوْبِيْ قَدْ كَثُرَتْ
وَ لَمْ يَبْقَ لَهَا اِلَّا رَجَاۤءُ عَفْوِكَ
وَ قَدْ قَدَّمْتُ اٰلَةَ الْحِرْمَانِ اِلَيْكَ
فَاَنَا اَسْاَلُكَ اللّٰهُمَّ مَا لَاۤ اَسْتَوْجِبُهُ
وَ اَطْلُبُ مِنْكَ مَا لَاۤ اَسْتَحِقُّهُ
اَللّٰهُمَّ اِنْ تُعَذِّبْنِيْ فَبِذُنُوْبِيْ
وَ لَمْ تَظْلِمْنِيْ شَيْئًا
وَ اِنْ تَغْفِرْ لِيْ فَخَيْرُ رَاحِمٍ اَنْتَ يَا سَيِّدِيْ
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ اَنْتَ وَ اَنَا اَنَا
اَنْتَ الْعَوَّادُ بِالْمَغْفِرَةِ
وَ اَنَا الْعَوَّادُ بِالذُّنُوْبِ
وَ اَنْتَ الْمُتَفَضِّلُ بِالْحِلْمِ
وَ اَنَا الْعَوَّادُ بِالْجَهْلِ
اَللّٰهُمَّ فَاِنِّيْۤ اَسْاَلُكَ
يَا كَنْزَ الضُّعَفَاۤءِ
يَا عَظِيْمَ الرَّجَاۤءِ
يَا مُنْقِذَ الْغَرْقٰى
يَا مُنْجِيَ الْهَلْكٰى
يَا مُمِيْتَ الْاَحْيَاۤءِ
يَا مُحْيِيَ الْمَوْتٰى
اَنْتَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
اَنْتَ الَّذِيْ سَجَدَ لَكَ شُعَاعُ الشَّمْسِ
وَ نُوْرُ الْقَمَرِ
وَ ظُلْمَةُ اللَّيْلِ
وَ ضَوْءُ النَّهَارِ
وَ خَفَقَانُ الطَّيْرِ
فَاَسْاَلُكَ اللّٰهُمَّ يَا عَظِيْمُ
بِحَقِّكَ يَا كَرِيْمُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الصَّادِقِيْنَ
وَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الصَّادِقِيْنَ عَلَيْكَ
وَ بِحَقِّكَ عَلٰى عَلِيٍّ
وَ بِحَقِّ عَلِيٍّ عَلَيْكَ
وَ بِحَقِّكَ عَلٰى فَاطِمَةَ
وَ بِحَقِّ فَاطِمَةَ عَلَيْكَ
وَ بِحَقِّكَ عَلَى الْحَسَنِ
وَ بِحَقِّ الْحَسَنِ عَلَيْكَ
وَ بِحَقِّكَ عَلَى الْحُسَيْنِ
وَ بِحَقِّ الْحُسَيْنِ عَلَيْكَ
فَاِنَّ حُقُوْقَهُمْ مِنْ اَفْضَلِ اِنْعَامِكَ عَلَيْهِمْ
وَ بِالشَّأْنِ الَّذِيْ لَكَ عِنْدَهُمْ
وَ بِالشَّأْنِ الَّذِيْ لَهُمْ عِنْدَكَ
صَلِّ يَا رَبِّ عَلَيْهِمْ
صَلَاةً دَاۤئِمَةً مُنْتَهٰى رِضَاكَ
وَ اغْفِرْ لِيْ بِهِمُ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكَ
وَ اَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيَّ
كَمَا اَتْمَمْتَهَا عَلٰى اٰبَاۤئِيْ مِنْ قَبْلُ
يَا كٓهٰيٰعٓصٓ
اَللّٰهُمَّ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
فَاسْتَجِبْ لِيْ دُعَاۤئِيْ فِيْمَا سَاَلْتُكَ۔
اس کے بعد سجدہ میں جائے اور داہنے رخسار کو زمین پر رکھ کر کہے
يَا سَيِّدِيْ يَا سَيِّدِيْ يَا سَيِّدِيْ
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ اغْفِرْ لِيْ وَ اغْفِرْ لِيْ۔۔۔
اوراسی فقرہ کو مسلسل دہراتا رہے اور گریہ کرتا رہے۔ اس کے بعد بایاں رخسار رکھ کر انھیں فقروں کو دہرائے اور پھر جو چاہے دعا کرے۔
اوراسی فقرہ کو مسلسل دہراتا رہے اور گریہ کرتا رہے۔ اس کے بعد بایاں رخسار رکھ کر انھیں فقروں کو دہرائے اور پھر جو چاہے دعا کرے۔
اِلٰهِيْ اِنْ كُنْتُ قَدْ عَصَيْتُكَ
فَاِنِّيْ قَدْ اَطَعْتُكَ فِيْ اَحَبِّ الْاَشْيَاۤءِ اِلَيْكَ
لَمْ اَتَّخِذْ لَكَ وَلَدًا
وَ لَمْ اَدْعُ لَكَ شَرِيْكًا
وَ قَدْ عَصَيْتُكَ فِيْۤ اَشْيَاۤءَ كَثِيْرَةٍ
عَلٰى غَيْرِ وَجْهِ الْمُكَابَرَةِ لَكَ
وَ لَا الْاِسْتِكْبَارِ عَنْ عِبَادَتِكَ
وَ لَا الْجُحُوْدِ لِرُبُوْبِيَّتِكَ
وَ لَا الْخُرُوْجِ عَنِ [مِنَ] الْعُبُوْدِيَّةِ لَكَ
وَ لٰكِنِ اتَّبَعْتُ هَوَايَ
وَ اَزَلَّنِيَ الشَّيْطَانُ بَعْدَ الْحُجَّةِ وَ الْبَيَانِ
فَاِنْ تُعَذِّبْنِيْ فَبِذُنُوْبِيْ غَيْرَ ظَالِمٍ اَنْتَ لِيْ
وَ اِنْ تَعْفُ عَنِّيْ وَ تَرْحَمْنِيْ
فَبِجُوْدِكَ وَ كَرَمِكَ يَا كَرِيْمُ۔
اور اس کے بعد یہ کہے
غَدَوْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَ قُوَّتِهِ
غَدَوْتُ بِغَيْرِ حَوْلٍ مِنِّيْ وَ لَا قُوَّةٍ
وَ لٰكِنْ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَ قُوَّتِهِ
يَا رَبِّ اَسْاَلُكَ بَرَكَةَ هٰذَا الْبَيْتِ وَ بَرَكَةِ اَهْلِهِ
وَ اَسْاَلُكَ اَنْ تَرْزُقَنِيْ رِزْقًا حَلَالًا طَيِّبًا
تَسُوْقُهُ اِلَيَّ بِحَوْلِكَ وَ قُوَّتِكَ
وَ اَنَا خَاۤئِضٌ [خَافِضٌ] فِيْ عَافِيَتِكَ۔
شیخ شہیدؒ اورمحمد بن مشہدیؒ نے اس عمل کا صحنِ مسجد کے لئے ستونِ چہارم کے پاس ذکر کیا ہے جہاں دو رکعت میں حمد و توحید ہے اور دو رکعت میں حمد اور انّا انزلناہُ ہے اور سلام کے بعد تسبیح زہراؑ کا بھی ذکر ہے حدیث معتبر میں ابو حمزہ ثمالی سے منقول ہے کہ ایک دن میں مسجد کوفہ میں بیٹھا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص باب کندہ سے داخل ہوا جو سب سے زیادہ حسین اور خوبصورت تھا۔ بہترین لباس پہنے ہوئے، سر پر عمامہ، پیروں میں نعلین عربی۔ نعلین کو اتارنے کے بعد ستون ہفتم کے پاس کھڑے ہو کر پہلےعربی۔ نعلین کو اتارنے کے بعد ستون ہفتم کے پاس کھڑے ہو کر پہلے تکبیر کہی جس کا سن کر میرا بدن لرز گیا۔ اس کے بعد چار رکعت نما ز ادا کی بہترین رکوع و سجود کے ساتھ۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھی
اِلٰهِىْ اِنْ كُنْتُ قَدْ عَصَيْتُكَ
تک پہنچا تو سجدہ میں جا کر مسلسل ایک سانس تک
يَا كَرِيْمُ يَا كَرِيْمُ
کہتا رہا۔ اس کے بعد سجدہ ہی میں
يَا مَنْ يَقْدِرْ عَلٰى حَوَاۤئِجِ السَّاۤئِلِيْنَ
پڑھا واور ستر مرتبہ
یَا سَيِّدِىْ
کہا جس کا ذکر ستون ہفتم کے اعمال میں کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد جب سر اٹھایا تو میں نے بغور دیکھاکہ یہ امام زین العابدینؑ تھے۔ میں نے آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور پوچھا کہ آپ یہاں کیوں تشریف لائے؟ فرمایا کہ اس کام کے لئے جو تم نے دیکھا ہے یعنی مسجد کوفہ میں نماز کے لئے دوسری روایت کہ جو زیارت ہفتم کے ذیل میں نقل کی گئی ہے اس میں ہے کہ آپ ابو حمزہ کو اپنے ساتھ زیارت امیرالمومنینؑ کے لئے لے گئے۔