EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
آداب زائر سید شہداء
وہ آداب جن کی رعایت زائر سید شہداء کے لئے ضروری ہے۔ راہِ زیارت میں یا حرم مطہر میں۔
۱گھر سے نکلنے سے پہلے تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے جیسا کہ امام صادقؑ نے صفوان کو بتایا تھا اور اس کا ذکر زیارت ہفتم میں آنے والا ہے۔
شیخ محمد بن مشہدی نے زیارت عیدین میں ذکر فرمایا ہے کہ جب امام حسینؑ کی زیارت اور ارادہ کرو تو تین دن روزہ رکھو اور تیسرے دن غسل کرو اور اہل وعیال کو جمع کر کے کہو۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْتَوْدِعُكَ الْيَوْمَ نَفْسِيْ وَ اَهْلِيْ
وَ مَالِيْ وَ وُلْدِيْ
وَ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنِّيْ بِسَبِيْلٍ
الشَّاهِدَ مِنْهُمْ وَ الْغَاۤئِبَ
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنَا [بِحِفْظِكَ‏] بِحِفْظِ الْاِيمَانِ وَ احْفَظْ عَلَيْنَا
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا فِيْ حِرْزِكَ
وَ لَا تَسْلُبْنَا نِعْمَتَكَ
وَ لَا تُغَيِّرْ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ وَ عَافِيَةٍ
وَ زِدْنَا مِنْ فَضْلِكَ
اِنَّاۤ اِلَيْكَ رَاغِبُوْنَ۔
اس کے بعد انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ گھر سے بر آمد ہو۔ اور یہ کہتا رہے۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اَللهُ اَكْبَرُ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
مالک کی ثنا کرے اور محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجے اور اس کے بعد سکون و وقار کے ساتھ چلے۔ روایت میں ہے کہ پروردگار زائرین قبر حسینؑ کے پسینہ کے ہر قطرہ سے ستّر ہزار فرشتوں کو خلق فرماتا ہے جو ملک کی تسبیح کرتے ہیں اور زائر کے لئے استغفار کرتے ہیں اور روزِ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
۲امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جب زیارتِ امام حسینؑ کے لئے جاؤ تو آنحضرت کی زیارت محزون، غمناک اور غبار آلود و تشنہ و گرسنہ حالت میں کرو کہ آپ کو اسی کیفیت میں شہید کیا گیا ہے۔ اپنی حاجت کو طلب کرو اور فوراً واپس آجاؤ اور اس جگہ کو اپنا وطن نہ بناؤ۔
۳سفر زیارت میں کوئی لذیذ چیز بریانی، حلوہ وغیرہ ساتھ نہ لے جاؤ اور اپنی خوراک کو معمولی قرار دو کہ امام صادقؑ سے روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ ایک جماعت زیارت امام حسینؑ کے لئے جاتی ہے اور اپنے ساتھ دسترخوان، بھنے ہوئے گوشت اور حلوہ کے ساتھ جاتی ہے۔ کیا یہ لوگ اگر اپنے ماں باپ یا دوستوں کی قبر پر جاتے ہیں تو اسی طرح کا سامان لے کر جاتے ہیں۔دوسری معتبر حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے مفصل بن عمر سے فرمایا کہ بعض اوقات امام حسینؑ کی زیارت کرنا نہ کرنے سے بہتر ہے اور بعض اوقات زیارت نہ کرنا زیارت کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔ مفصل نے عرض کی کہ حضور آپ نے تو میری کمر توڑ دی۔ فرمایا کہ واللہ اگر تم اپنے ماں باپ کی قبر کی زیارت کو جاتے ہو تو غمگین اور رنجیدہ ہوکر جاتے ہو اور جب امام حسینؑ کی زیارت کو جاتے ہو تو اپنے ساتھ دسترخوان اور سامان لے کر جاتے ہو، یہ غلط ہے۔ تمہیں چاہیئے کہ گرد آلود اور پریشان حال بن کر جاؤ۔
مؤلّف: کا کہنا ہے کہ کس قدر مناسب ہے کہ اغنیاء اور تجار اپنے سفر میں اس بات کا لحاظ رکھیں اور اپنے شہر سے لے کر کربلائے معلیٰ تک اگر راستہ میں لوگ انھیں دعوت اور مہمانی کے لئے مدعو کریں تو ایسی دعوتوں کو قبول نہ کریں جن میں بہترین غذائیں اور مرغ وبریانی وغیرہ پائی جاتی ہوں اور اپنے گھر سے بھی اچھی غذائیں لے کر نہ نکلیں اور یہ کہیں کہ ہم مسافر کربلا ہیں، ہمارے لئے ایسی غذائیں مناسب نہیں ہیں۔
شیخ کلینیؒ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ شہادت امام حسینؑ کے بعد آپ کی زوجہ کلبیہ نے صفِ عزا بچھائی اور آ پ پر گریہ کیا اور تمام عورتوں اور خادموں نے اس قدر گریہ کیا کہ آنسو خشک ہو گئے تو کسی جگہ اس معظمہ کے لئے قطا کا مُرغ بھیجا گیا تاکہ اس سے گریہ کی طاقت پیدا ہو تو ان معظمہ نے دیکھتے ہی پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص نے آپ کے لئے ہدیہ بھیجا ہے اس کے ذریعہ ماتم حسینؑ کی قوت پیدا ہو۔ فرمایا ہم کسی شادی میں نہیں ہیں لہٰذا ہمارا ایسی خوراک سے کیا تعلق ہے؟ اس کے بعد آپ نے یہ غذا کو گھر سے باہر بھجو ادیا۔
۴ان چیزوں میں جو سفر زیارت امام حسینؑ میں مستحب ہیں یہ ہے کہ تواضع ، انکسار، فروتنی اور خضوع و خشوع کے ساتھ اس طرح چلے جس طرح کوئی بندۂ ذلیل راستہ طے کرتا ہے۔ وہ لوگ جو راہِ زیارت میں ئی نئی جدید سواریوں پر سوار ہوتے ہیں انھیں ان باتوں کی طرف خصوصیت کے ساتھ متوجہ رہنا چاہیئے کہ کہیں سے تکبر اور غرور نہ پیدا ہونے پائے اور باقی زائرین جو سختی اور مشقت کے ساتھ سفر کرتےہیں ان کے سامنے بزرگی کا اظہار نہ ہو اور انھیں حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ علماء کرام نے اصحابِ کہف کے حالات میں نقل کیا ہے کہ یہ لوگ دقیانوس کے مخصوصین بلکہ ورزاء میں تھے لیکن جب پروردگار عالم نے اپنی رحمت کو ان کے شامل حال کیا تو خدا پرستی اور اصلاح عمل کی طرف متوجہ ہو گئے اور تمام لوگوں سے کنارہ کش ہو گئے اور غار میں پناہ لے کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ یہ گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے باہر نکلے۔ ابھی تین میل راستہ طے کیا تھا کہ ان میں سے تلمیخا نے کہا کہ لوگو کو آخرت کی مسکینی کے دن آگئے ہیں اور ملک دنیا ہمارےہاتھ سے نکل گیا لہٰذا اب گھوڑوں سے اتر آؤ اور پیدل چلو تاکہ پروردگار ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں سکون و اطمینان عنایت فرمائے چنانچہ سب کے سب گھوڑوں سے اتر آئے اور سات فرسخ کا راستہ پیدل طے کیایہاں تک کہ پیر زخمی ہو گئے اور پیروں سے خون بہنے لگا۔ زائرین قبر مطہر امام حسینؑ کو اس مطلب کو نگاہ میں رکھنا چاہیئے اور یہ جاننا چاہیئے کہ اس راستہ میں جس قدر بھی تواضع سے کام لیا جائے بلندی درجات کا باعث ہو گا۔
آداب زیارت میں امام حسینؑ میں امام جعفر صادقؑ سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص زیارت امام حسینؑ کے لئے پیدل سفر کرے گا پروردگار اس کے لئے ہر قدم پر ہزار نیکیاں لکھے گا اور ہزار گناہ محوکر کے بہشت میں ہزار درجات عطا کرے گا۔ لہٰذا شطِ فرات پر پہنچنے کےبعد غسل کرو اور پا برہنہ ہو کر نعلین کو ہاتھ میں لے کر راستہ طے کرو جیسے کوئی بندۂ ذلیل راستہ طے کرتا ہے۔
۵اگر راہِ زیارت میں کسی زائر کو خستہ حالت دیکھے اور وہ مدد طلب کرے تو جہاں تک ممکن ہو اس پر توجہ دے اور اسے منزل تک پہنچا دے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی طرف سے بے اعتنائی عمل میں آئے۔ شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ ابو ہارون سے روایت کی ہے کہ میں امام صادقؑ کی خدمت میں تھا کہ آپ نے اپنے پاس کے اصحاب سے فرمایا کہ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہمیں حقیر سمجھتے ہو؟ یہ سننا تھا کہ ان کے درمیان سے ایک شخص خراسانی کھڑ اہو گیا کہنے لگا۔ خدا کی پناہ ہم اور آپ کو حقیر اور معمولی خیال کریں گے؟ فرمایا کہ جو لوگ ہم کو معمولی سمجھتے ہیں ان میں سے ایک تم بھی ہو۔ اس نے کہا کہ پناہ بخدا میں ایسا کر سکتا ہوں؟ فرمایا کہ وائے تمھارے حال پر۔ کیا تم نے اس شخص کی آواز نہیں سنی تھی جو حجفہ کے نزدیک یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں ایک میل کے لئے اپنے ساتھ سوار کر لو۔ میں خستہ حال ہو گیاہوں اور تم نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا تھا اور اسے حقیر سمجھ لیا تھا۔ یاد رکھو کہ جس نے کسی مومن کو ذلیل کیا اس نے ہم کو ذلیل کیا ہے اور ہماری حرمت کو ضائع کیا ہے۔
مؤلّف کا بیان ہے کہ ہم نے آداب زیارت میں ادب نہم کے ذیل میں ایک بیان علی بن یقطین کی روایت کے ساتھ نقل کیا ہے جو اس مقام کے لئے مناسب ہے لہٰذا اسے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور وہ بہترین موعظہ ہے۔ اور یہاں اس مقام پر جس ادب کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق صرف زیارت امام حسینؑ سے نہیں ہے لیکن چونکہ راہِ زیارت کا واقعہ تھا اس لئے ہم نے اس مقام پر نقل کر دیا۔
۶ثقہ جلیل القدر محمد بن مسلمؒ سے روایت ہے کہ امام باقرؑ سے عرض کیا گیا کہ ہم جب آپ کے پدربزرگوار امام حسینؑ کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو کیا ایسا نہیں ہے جیسے حج میں ہوں؟ فرمایا بیشک ۔ عرض کیا تو کیا ہم پر وہ سب کچھ لازم ہے جو حاجیوں پر لازم ہے فرمایا کہ بیشک تمہارا فرض ہے کہ رفقاء کے ساتھ برتاؤ کرو۔ کم گفتگو کرو۔ باتیں بہترین کرو اور خدا کو زیادہ یاد کرو۔پاکیزہ لباس پہنو اور حرم میں داخل ہونے سے پہلےغسل کرو اور یہ بھی لازم ہےکہ خضوع و خشوع اور رقت قلب کے ساتھ بڑھو اور وہاں جا کر نمازیں ادا کرو۔ محمدؐ و آل محمدؐ پر مسلسل صلوات پڑھتے رہو اپنے کو ان چیزوں سے محفوظ رکھو جو تمہارے لئے مناسب نہیں ہیں۔ اپنی نگاہوں کو حرام اور مشتبہ چیزوں سے نیچے رکھو اور برادران مومنین کے ساتھ احسان کرو اور اگر دیکھو کہ کسی کا مال ختم ہو گیا ہے تو اس کی مدد کرو اور اپنے خرچ کو ان کے درمیان تقسیم کردو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تقیہ کا لحاظ رکھو کہ دین کا قیام تقیہ سے ہے اور ان چیزوں سے پرہیز کرو جن سے خدا نے منع کیا ہے۔ لوگوں سے جھگڑا نہ کرو۔ زیادہ قسم نہ کھاؤ۔ لوگوں سے بحث نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو تمہیں حج و عمرہ کا ثواب مل جائے گا اور تم مالک کی طرف اس اجر کے حقدار ہو جاؤ گے جو اس شخص کو ملتا ہے جو مال خرچ کر کے اپنے محل سے دور جا کر پروردگار سے گذارش کرتا ہے۔ واپسی کے وقت تمھارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور تم رحمت کے حقدار ہو جاؤ گے۔
۷ابوحمزہ نے امام صادقؑ سے باب زیارت میں نقل کیا ہے کہ جب نینوا پہنچو تو اپنا سامان اتار دو اور اپنے جسم پر تیل کی مالش نہ کرنا، سرمہ نہ لگانا اور جب تک وہاں رہنا خبردار گوشت استعمال نہ کرنا۔
۸آبِ فُرات سے غسل کرے کہ اس بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں اور ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص بھی آبِ فرات سے غسل کر کے امام حسینؑ کی زیارت کرے گا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا شکم مادر سے پیدا ہوا ہے چاہے اس کے گناہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔
روایت میں ہے کہ آنحضرت سے کہا گیا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم زیارتِ قبرِ امام حسینؑ کے لئے جاتے ہیں اور ہمارے لئے سردی وغیرہ کی بنا پر غسل مشکل ہو جاتا ہے۔ فرمایاکہ جو شخص فرات میں غسل کرے اور امام حسینؑ کی زیارت کرے پروردگار عالم اس کے واسطے وہ فضیلت عطا کرتا ہے جس کا شمار نہ ہو سکے۔
بشیرِ دہّان سے روایت ہے کہ حضرت صادقؑ نے فرمایا کہ جو شخص بھی زیارت امام حسینؑ کے لئے جائے۔ وضو کرے۔ فرات میں غسل کرے۔ تو جو قدم بھی اٹھائے گا یا یا رکھے گا پروردگار اس کے لئے حج و عمرہ کا ثواب لکھ دے گا۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ فرات میں بھی اس جگہ غسل کرے جو قبر کے سامنے ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فرات کے نزدیک پہنچے تو سو مرتبہ اللہ اکبر، سو مرتبہ لاالہٰ الّااللہ کہے اَللهُ اَكْبَرُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اور سو مرتبہ صلوات پڑھے۔
۹جب حرم میں داخل ہونا چاہے تو مشرقی دروازہ سے داخل ہو جیسا امام صادقؑ نے یوسف کناسی سے فرمایا تھا۔
اَللهُ اَكْبَرُ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمّدٍ وَ اۤلِ مُحَمّدٍ.
۱۰ابن قولویہ کی روایت ہے کہ امام صادقؑ نے مفصلؒ بن عمر سے فرمایا کہ جب قبرِ امام حسینؑ کے پاس پہنچو تو روضہ کے دروازہ پر ٹھہر کر یہ کلمات پڑھو کہ ہر کلمہ کے عوض رحمتِ الٰہی کے حقدار بن جاؤ گے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اٰدَمَ صَفْوَةِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ نُوْحٍ نَبِيِّ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُوْسٰى كَلِيْمِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِيسٰى رُوْحِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِيْبِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عَلِيٍّ وَصِيِّ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ الْحَسَنِ الرَّضِيِّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الشَّهِيْدُ الصِّدِّيْقُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْوَصِيُّ الْبَآرُّ التَّقِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَرْوَاحِ الَّتِيْ حَلَّتْ بِفِنَاۤئِكَ وَ اَنَاخَتْ بِرَحْلِكَ
اَلسَّلَامُ عَلٰى مَلَاۤئِكَةِ اللّٰهِ الْمُحْدِقِيْنَ بِكَ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلَاةَ
وَ اٰتَيْتَ الزَّكَاةَ
وَ اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ عَبَدْتَ اللّٰهَ مُخْلِصًا حَتّٰى اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
اس کے بعد قبر کی طرف آگے بڑھے کہ جو قدم بھی اٹھائے گا یا رکھے گا اسے وہ ثواب ملے گا جیسے کوئی راہِ خدا میں اپنے خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ قبر کے پاس پہنچ کر اپنے ہاتھوں کو قبر پر رکھ کر کہے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ فِيۤ اَرْضِهِ وَ سَمَاۤئِهِ۔
اس کے بعد نماز کی طرف متوجہ ہو جائے کہ جو رکعت بھی یہاں ادا کی جائے گی اس کا ثواب اس شخص کا ہو گا جس نے ہزار غلام آزاد کئے ہوں اور ہزار مرتبہ راہِ خدا میں کسی پیغمبر مرسلؐ کے ساتھ جہاد کیا ہو۔
۱۱ابو سعید مدائن سے منقول ہےکہ امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا میں زیارت امام حسینؑ کے لئے جا رہا ہوں۔ فرمایا جاؤ زیارتِ فرزند رسولؐ امام حسینؑ کے لئے جو تمام نیک کرداروں میں نیک کردار تھے، مگر جب آنحضرت کی زیارت کرو تو بالائے سر ہزار مرتبہ تسبیح امیرالمومنینؑ پڑھو اور ہائین پا ہزار مرتبہ تسبیح فاطمہ پڑھو۔ اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کرو۔ پہلی رکعت میں سورۂ یٰسٓ پڑھو اور دوسری رکعت میں سورۂ رحمٰن پڑھو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے واسطہ ثوابِ کثیر ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان۔ یہ تسبیح علیؑ و فاطمہؑ کیا ہے۔ فرمایا۔ اے ابوسعید تسبیح علیؑ یہ ہے
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا تَنْفَدُ خَزَاۤئِنُهُ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا تَبِيْدُ مَعَالِمُهُ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا يَفْنٰى مَا عِنْدَهُ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا يُشْرِكُ اَحَدًا فِيْ حُكْمِهِ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا اضْمِحْلَالَ لِفَخْرِهِ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَا انْقِطَاعَ لِمُدَّتِهِ
سُبْحَانَ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ غَيْرُهُ۔
اور تسبیح جنابِ فاطمہؐ یہ ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الْجَلَالِ الْبَاذِخِ الْعَظِيْمِ
سُبْحَانَ ذِي الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِيْفِ
سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ الْفَاخِرِ الْقَدِيْمِ
سُبْحَانَ ذِي الْبَهْجَةِ وَ الْجَمَالِ
سُبْحَانَ مَنْ تَرَدَّى بِالنُّوْرِ وَ الْوَقَارِ
سُبْحَانَ مَنْ يَرٰى اَثَرَ النَّمْلِ فِيْ الصَّفَا
وَ وَقْعَ الطَّيْرِ فِي الْهَوَاۤءِ۔
۱۲قبر امام حسینؑ کے پاس نماز واجب و مستحب ادا کرے کہ وہاں نماز مقبول ہو تی ہے۔ سید بن طاؤسؒ نے فرمایا ہے کہ کوشش کرو کہ تم سے حرم مبارک میں کوئی واجب فریضہ یانافلہ ترک نہ ہونے پائے کہ روایت میں ہے کہ آنحضرؐت کے پاس نماز واجب حج کے برابر ہے اور نماز نافلہ عمرہ کے برابر ہے۔مؤلّف کا بیان ہے کہ روایت مفصل میں حائر مبارک میں نماز کی فضیلت کا ذکر ہو چکا ہے اور دوسری معتبر روایت میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص آنحضرت کی زیارت کرے اور دورکعت یا چار رکعت نماز وہاں ادا کرے اسے پروردگار حج و عمرہ کا ثواب دے گا۔روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز زیارت یا دوسری نمازیں قبر کے پیچھے یا بالائے سر دونوں جگہ پڑھی جا سکتی ہیں۔اگر بالائے سر پڑھے تو اس قدر پیچھے رہ کر پڑھے کہ اصل قبر کے مقابلہ میں نہ ہو۔
۱۲قبر امام حسینؑ کے پاس نماز واجب و مستحب ادا کرے کہ وہاں نماز مقبول ہو تی ہے۔ سید بن طاؤسؒ نے فرمایا ہے کہ کوشش کرو کہ تم سے حرم مبارک میں کوئی واجب فریضہ یانافلہ ترک نہ ہونے پائے کہ روایت میں ہے کہ آنحضرؐت کے پاس نماز واجب حج کے برابر ہے اور نماز نافلہ عمرہ کے برابر ہے۔مؤلّف کا بیان ہے کہ روایت مفصل میں حائر مبارک میں نماز کی فضیلت کا ذکر ہو چکا ہے اور دوسری معتبر روایت میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص آنحضرت کی زیارت کرے اور دورکعت یا چار رکعت نماز وہاں ادا کرے اسے پروردگار حج و عمرہ کا ثواب دے گا۔روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز زیارت یا دوسری نمازیں قبر کے پیچھے یا بالائے سر دونوں جگہ پڑھی جا سکتی ہیں۔اگر بالائے سر پڑھے تو اس قدر پیچھے رہ کر پڑھے کہ اصل قبر کے مقابلہ میں نہ ہو۔
ابو حمزہ ثمالیؒ امام صادقؑ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت کے بالائے سر دو رکعت نماز ادا کرو۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمدو یٰسٓ اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد و رحمٰن پڑھو اور اگر چاہو تو پشت قبر پر بھی نماز ہو سکتی ہے لیکن بالائے سر بہتر ہے۔ اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جو نماز چاہو پڑھ سکتے ہولیکن یہ دو رکعت نماز زیارت بہر حال پڑھنا ہے ہر اس مقام پر جہاں کی زیارت کرو۔ ابن قولویہؒ نے امام باقرؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ تمہارے لئے کیا مانع ہے کہ جب کوئی ضرورت پیش آئے تو جاؤ قبر حسینؑ کے پاس اور چار رکعت نماز پڑھ کر اپنی حاجت طلب کرو کہ وہاں نماز فریضۂ حج کے برابر ہے اور نماز نافلہ عمرہ کے برابر ہے۔
۱۳ روضۂ مطہر امام حسینؑ میں بہترین عمل دعا ہے کہ اس جگہ یعنی زیر قبہ امام حسینؑ دعائیں مقبول ہوتی ہیں اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کو امام حسینؑ کو پروردگار نے شہادت کے عوض مین عطا فرمایا ہے۔ زائر کا چاہیئے کہ اس فرصت کو غنیمت سمجھے اور توبہ و انابت اور عرض حاجات میں کوتاہی نہ کرے۔ آنحضرت کی زیارت کے ذیل میں بہت سی دعائیں بہترین مضامین کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ اگر ہماری بنا اختصار نہ ہوتی تو چند ایک کا ذکر ضرور کیا جاتا لہٰذا بہتر یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو صحیفۂ کاملہ کی دعائیں پڑھے جو بہترین دعا ہے۔ اور ہم اس باب کے آخر میں زیارات جامعہ کے بعد ایک دعا اور نقل کریں گے جو تمام مشاہد مقدسہ میں پڑھی جا سکتی ہے اور اس لئے کہ یہ جگہ بھی خالی نہ رہ جائے ایک مختصردعا نقل کئے دے رہے ہیں جو ایک زیارت کے ذیل میں وارد ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حرم مبارک میں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے کہے۔
اَللّٰهُمَّ قَدْ تَرٰى مَكَانِيْ
وَ تَسْمَعُ كَلَامِيْ
وَ تَرٰى مَقَامِيْ [مَكَانِيْ‏] وَ تَضَرُّعِيْ
وَ مَلَاذِيْ بِقَبْرِ حُجَّتِكَ وَ ابْنِ نَبِيِّكَ
وَ قَدْ عَلِمْتَ يَا سَيِّدِيْ حَوَاۤئِجِيْ
وَ لَا يَخْفٰى عَلَيْكَ حَالِيْ
وَ قَدْ تَوَجَّهْتُ اِلَيْكَ بِابْنِ رَسُوْلِكَ
وَ حُجَّتِكَ وَ اَمِيْنِكَ
وَ قَدْ اَتَيْتُكَ مُتَقَرِّبًا بِهِ اِلَيْكَ وَ اِلٰى رَسُوْلِكَ
فَاجْعَلْنِيْ بِهِ عِنْدَكَ وَجِيْهًا
فِيْ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ
وَ اَعْطِنِيْ بِزِيَارَتِيْ اَمَلِيْ
وَ هَبْ لِيْ مُنَايَ
وَ تَفَضَّلْ عَلَيَّ بِشَهْوَتِيْ [بِسُؤْلِيْ‏] وَ رَغْبَتِيْ
وَ اقْضِ لِيْ حَوَاۤئِجِيْ
وَ لَا تَرُدَّنِيْ خَاۤئِبًا
وَ لَا تَقْطَعْ رَجَاۤئِيْ
وَ لَا تُخَيِّبْ دُعَاۤئِيْ
وَ عَرِّفْنِي الْاِجَابَةَ فِيْ جَمِيْعِ مَا دَعَوْتُكَ
مِنْ اَمْرِ الدِّيْنِ وَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
وَ اجْعَلْنِيْ مِنْ عِبَادِكَ
الَّذِيْنَ صَرَفْتَ عَنْهُمُ الْبَلَايَا وَ الْاَمْرَاضَ
وَ الْفِتَنَ وَ الْاَعْرَاضَ
مِنَ الَّذِيْنَ تُحْيِيْهِمْ فِيْ عَافِيَةٍ
وَ تُمِيْتُهُمْ فِيْ عَافِيَةٍ
وَ تُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فِيْ عَافِيَةٍ
وَ تُجِيْرُهُمْ مِنَ النَّارِ فِيْ عَافِيَةٍ
وَ وَفِّقْ لِيْ بِمَنٍّ مِنْكَ
صَلَاحَ مَاۤ اُؤَمِّلُ فِيْ نَفْسِيْ
وَ اَهْلِيْ وَ وُلْدِيْ وَ اِخْوَانِيْ وَ مَالِيْ
وَ جَمِيْعِ مَاۤ اَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔