شبِ جمعہ کی اہمیت
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ ہمارا سلام اور رحمتیں ہوں اُسکے آخری نبی و رسول ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی پاک اہلبیت پر جسکے ذریعے اللہ نے انسانیت کی ھدایت کی۔
الله رب عزت نے ہمیں قرآنِ کریم میں ان آیتوں کے ذریعے دعا کی دعوت دی ہے، "اور تمہارا پروردگار کہتا ہے، تم مجھے پکارو، میں تمہیں جواب دونگا، بیشک جو میری عبادت میں تکبّر کرتا ہے وہ عنقریب جہنّم میں داخل کیا جائیگا۔"
ایک دوسرے مقام پر الله تبارك و تعالى فرماتا ہے، " اور جب میرا بندہ تم سے میرے بارے میں پوچھے تو یقیناً میں بہت قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کے سوال کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"
یہ آیتیں دو پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ پہلا، اللہ نے ہمیں اسے دعاؤں کے ذریعے طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسرے، اُسنے اپنے لیے لازم کیا ہے کہ درخواست کا جواب دے۔
جب دعا کی بات آئی ہے تو ایک بندہ اپنے خدا سے اپنی زبان اور اپنے الفاظ میں رابطہ کر سکتا ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ بندہ خدا کی طرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معصوم ائمہ علیہم السلام کے سکھائے ہوئے الفاظ کے ذریعے پلٹے۔
دعائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت ائمہ علیہم السلام کی تعلیمات کا لازمی جزو ہیں۔ روایات کے خزانے کے سوا، شیعہ مکتب فکر کے پاس اہلبیت علیہم السلام کی تعلیم کردہ دعاؤں کی بہت بڑی دولت ہے۔یہ دوائیں خود اُصولِ دین اور فروع دین کی طرف ھدایت کرتی ہیں۔ اپنی دعاؤں کی ذریعے اہلبیت علیہم السلام نے ہمیں توحید خدا اور رسولِ خدا و اہلبیت کی مقام و منزلت سکھایا اور روزِ قیامت کا خوف اور امید ہمارے اندر مرتّب کیا۔ دعائیں انسان کو اللہ کى طرف لاتی ہیں نیک اعمال کے ذریعے، برائیوں کو ترک کرکے اور اعلیٰ اخلاق و ادب کے زریعے خدا کی رضا حاصل کرکے۔
اس بات میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ اہلبیت علیہم السلام کی طرف سے اللہ کی طرف دعاؤں کے زریعے پلٹنے کی تاکید کی گئی ہے۔ پھر آپنے اپنی روایات کے زریعے دعا کی اہمیت، دعاؤں کے ذریعے طلب کرنے کی اہمیت، دعاؤں کی قبولیت کے بہترین اوقات و مقامات اور اُسکے فائدے پر روشنی ڈالی ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے پوچھا، "کیا میں تمہیں ایسا ھتیار بتاؤں جو دشمن سے تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے رزق میں وسعت کا سبب ہو؟" اصحاب نے کہا،"جی ہاں، اے پیغبر خدا۔" آپ نے فرمایا، اپنے خدا کو دن و رات پکارو، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔"
امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا، "دعائیں بلاؤں کو ٹال دیتی ہیں، جو نازل ہو چکی ہیں اور جو ابھی تک نازل نہیں ہوئی ہیں۔"
دعائے کمیل کے آخری حصے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ہم یہ جملے پاتے ہیں، "اسے بخش دے جسکے پاس دعا کے سوا کچھ نہیں ہے۔" یہ جمله ہمارے لیے بہت اہم سبق ہے. اور شب جمعه کے اعمال کے لئے مانگنے کا آسان سلیقہ سکھاتا ہے۔
الله کی فضل سے ہمیں چھاردھ معصومین علیہم السلام نے تمام مواقع، اوقات، جگہ اور ضروریات کے مطابق دعائیں مرحمت فرمائی ہیں۔
دعاؤں کی قبولیت کے لئے اُسکے مقامات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، دعا کی قبولیت مسجد اور عبادت گاہوں جیسے مزار مقدس امام حسین علیہ السلام اور دوسرے ائمہ علیہم السلام کے مزار، میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امامِ صادق علیہ السلام فرماتے ھیں،" الله تبارک وتعالی نے دعاؤں کی قبولیت کے لئے كچھ زمینوں کو مخصوص کیا ہے اور مزار مقدس امام حسین علیہ السلام انمے سے ایک ہے۔" اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے اسکی قبولیت کے لئے بھی دعا کی جائے۔
اسی طرح امام علیہ السلام نے مخصوص اوقات بھی تعلیم فرمائے ہیں دعاؤں کی قبولیت کے۔ مثال کے طور پر نمازِ صبح کے وقت، نمازِ شب کے وقت، جمعہ کے دن اور جمعرات کے دن کی شام یا شبِ جمعہ۔
ابو عبدالله امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، سورج جمعہ سے بہتر کسی دن پر نہیں چمکا۔ جب آسمان کے پرندے اس دن آ پس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو یہ کہکر مبارکباد دیتے ہیں، "یہ کتنا بہترین دن ہے۔"
امامِ باقر علیہ السّلام، نے شبِ جمعہ کی اہمیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا،
اس مكمل رات، الله پکارتا ہے
-آیا کوئی بندہ مومن ہے جو طلوع فجر سے پہلے مجھ سے اپنی دنیا اور آخرت کے لئے کوئی دعا کرے تاکہ میں اُسکى دعا کو قبول کروں؟
- آیا کوئی بندہ مومن ہے جو طلوع فجر سے پہلے مجھ سے اپنے گناہوں سے توبہ کرے تاکہ میں اسکی توبہ کو قبول کروں؟
- آیا کوئی بندہ مومن ہے جسکی روزی تنگ ہو اور وہ طلوع صبح سے پہلے سوال کرے اور میں اُسکے روزی میں وسعت پیدا کر دوں۔
- آیا کوئی بندہ مومن ہے جو بیمار ہو اور وہ طلوع فجر سے پہلے مجھ سے سوال کرے اور میں اسے شفا عنایت کر دوں۔
- آیا کوئی بندہ مومن ہے جو گرفتاریوں میں مبتلا ہو اور وہ طلوع فجر سے پہلے مجھ سے سوال کرے اور میں اسے قيد سے رہائی دلا دوں۔
-آیا کوئی بندہ مومن ہے جو مظلوم ہو اور وہ طلوع فجر سے پہلے مجھ سے سوال کرے کے میں اسے ظالم کی قید سے نجات دلادوں اور اسکے حق کا انتقام لے کر اُسکا حق اسے دلادوں۔
جب جنابِ یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں سے اپنے والد سے خدا سے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کیا، حضرتِ یعقوب نے فرمایا، میں تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرونگا." اس آیت کی تفسیر میں امامِ صادق علیہ السلام نے فرمایا حضرت یعقوب نے استغفار کو شبِ جمعہ کی فجر تک ملتوی کر دیا۔
یہ آیت اور روایت جہاں پر طلب مغفرت کے لے اس رات کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہیں وہیں پر اللہ کی بارگاہ میں رسولِ اکرم یا ائمہ علیہم السلام کو طلب مغفرت کے لئے وسیله بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
اس طرح سے بہت سے واقعات اور روایات شبِ جمعہ کی قدر و قیمت کو بیان کرتے ہیں۔ ہمارے علماء نے روایات کی روشنی میں تین اہم نکات بیان کیے ہیں جنہیں اس رات اپنے دماغ میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلا - ہمیں اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے۔ دوسرے - ہمیں امامِ حسین علیہ السلام اور جو حوادث آپ پر اور آپکے اہل خاندان پر رونما ہوئے اُن کو یاد رکھنا چاہیے۔
تیسرے - ہمیں امامِ مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو یاد رکھنا چاہئے، جو ہمارے زمانے کے امام ہیں۔
ان تمام چیزوں کی عقلی دلائل ہیں، موت كا ذكر ہمارے اندر خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمیں اس عارضی دنیا سے روکتا ہے اور اللہ کی طرف پلٹاتا ہے۔
امامِ حسین علیہ السلام کا ذکر ہمارے اندر امید اور اسلام کے لیے قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ روایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کی ہر جمعرات کی رات رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمہ علیہم السلام اور جنابِ زہرا سلام اللہ علیھا کربلا میں رہتے ہیں۔ اور آپ پر سلام کرتے ہیں اور آپ کے اوپر گزر ے واقعات پر غمگین ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم امامِ حسین علیہ السلام کے محب ہیں تو یہ ہماری ذمےداری ہے کہ ہم دنیا میں جہاں پر بھی ہوں ہمیں بھی اسیطرح کرنا چاہیئے۔
امامِ مھدی عجل الله تعالى فرجه الشريف كا ذكر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر شبِ جمعہ ہمارے اعمال آپ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ ہمارے اچھے اعمال کو دیکھ کر آپ مسكراتے ہیں اور ہمارے گناہوں کو دیکھ کر گریہ کرتے ہیں اور ہمارے لیے طلبِ مغفرت کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بیدار بھی کرتا ہے کہ اس دن آپکا ظہور متوقع ہے۔لہٰذا ہر شبِ جمعہ کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ یہ شب غیبت امام کی آخری شب ہو اور اسکی فجر آپکے ظہور کی خوش خبری کے ساتھ ہو۔
عزيز برادران، ہماری حیات محدود ہے اور موت یقینی ہے۔ لہٰذا یہ بہت اہم ہے کہ جو موقع الله تبارك و تعالى نے ہمیں دیا ہے اسکا بہترین استعمال کیا جائے تاکہ ہم خود کو دعاؤں سے جوڑ سکیں، اسکی طرف پلٹیں خضوع کے ساتھ، اپنی جائز حاجات کو طلب کر سکیں اور اسکے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرکے اسکی رضا حاصل کرسکیں۔ شبِ جمعہ وہ نعمت ہے جسکے زریعے ہم یہ تمام چیزیں حاصل کر سکتے ھیں۔
خدا وند عالم سے دعا کریں کے وہ ہمیں توفیق عطا کرے کہ جب تک حیات ہے اس نعمت کا بہترین استعمال کرسکیں۔ آمین!