EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
روزِ آخر ماہِ ذی القعدہ
آخر ماہ ذی القعدہ ۲۲۰ھ؁ میں بنا بر مشہور امام محمد تقیؑ کی شہادت معتصم عباسی کے زہر کے ذریعہ بغداد میں واقع ہوئی۔ یہ تقریباً مامون کے مرنے کے ڈھائی سال کے بعد ہوا ہے جیسا کہ امام فرمایا کرتے تھے کہ سکون مامون کے تیس مہینے کے بعد ملے گا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت مامون کے برتاؤ سے اس قدرا ذیت میں تھے اور قدر پریشان تھے کہ اپنی موت کو سکون اور راحت سے تعبیر فرماتے تھے۔ جیسا کہ امام علی رضاؑ نے اپنے ولی عہدی کے زمانہ میں بھی ایسا ہی فرمایا تھا اور ہر جمعہ کو جب مسجد سے واپس آتے تھے تو اس حال میں کہ پسینہ میں غرق اور غبار آلود ہوتے تھے اپنے ہاتھوں کو بارگاہِ الٰہی میں بلند کر کے فرمایا کرتے تھے کہ خدایا اگر میرے لئے سکون و راحت میری موت ہی میں ہے تو میری موت میں تعجیل فرما۔ ہمیشہ غم و رنج میں مبتلا رہتے تھے یہاں تک کہ اس دنیا سے رحلت ہوئی۔ امام محمد تقی علیہ السلام کی عمر شریف وقت وفات پچیس سال تھی۔ آپ کی قبر اطہر کاظمین کی بقیعہ مبارک میں ہے۔ یعنی آپ اپنے جد بزرگوار امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے سرہانے دفن ہوئے۔