فضیلت و کیفیت زیارت شاہ عبدالعظیم ع
۲؎: امام زادۂ لازم التعظیم حضرت عبدالعظیم جن کا نسب شریف چار واسطوں سے امام سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچ جاتا ہے۔ عبدالعظیم بن عبداللہ بن علیؑ بن الحسنؑ بن زید بن الحسنؑ بن علیؑ بن ابی طالب علیہم السلام آپ کی قبر شریف شہر رے میں مشہور و معروف اور ملجا عوام و خواص ہے۔ آپ کی بلندی مقام اور جلالت شان اظہر من الشمس ہے علاوہ اس کے کہ آپ خاندان خاتم النبیین میں ہیں اور آپ کا شمار اکابر محدثین و علماء و زہا د و حفاظ و صاحبان تقویٰ میں ہوتا ہے۔ آپ امام ہادیؑ و امام جوادؑ کے اصحاب میں تھے اور ان حضرات کے ساتھ کمالِ توسل و تقرب رکھتے تھے۔ ان سے بہت سی روایات بھی نقل کی ہیں اور آپ ہی وہ ہیں جنھوں نے خطب امیرالمومنینؑ اور کتاب یوم و لیلہ تحریر فرمائی ہے اور آپ ہی وہ ہیں جنھوں نے اپنے پورے دین کو امام ہادیؑ کے سامنے پیش کیا تھا اور حضرت نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ابو القاسم خدا کی قسم یہی وہ دین ہے جس کو خدا نے بندوں کے لئے پسند کیا ہے اور اسی پر ثابت قدم رہنا ہے اللہ ان کو دنیا و آخرت میں قول ثابت کے ساتھ ثبات عنایت فرمائے۔ صاحب بن عباد نے آپ کے حالات میں ایک مختصر رسالہ بھی لکھاہے جس کو ہمارے استاد ثقہ الاسلام نوریؒ نے خاتمہ مستدرک میں نقل کر دیا اپنے زمانہ کے بادشاہ کے خوف سے فرار اختیار کیا اور شہروں میں گردش کرتے رہے یہاں تک کہ مقام رے تک پہنچے اور اپنے کو ساربانوں کے اندر مخفی کر لیا اور روایت نجاشی کی بنا پر ایک مرد شیعہ کے مکان کے تہہ خانہ میں سکّۃ الموالی مین قیام فرمایا جہاں مسلسل عبادت خدا کرتے رہتے۔ دنوں کو روزہ رکھتے راتوں کو نمازیں پڑھتے اور خاموشی سے باہر نکلتے تھے اور ایک قبر کی زیارت کرتے تھے جو آج ان کی قبر کے سامنے ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ فرزندانِ امام موسیٰ میں سے ایک بزرگ کی قبر ہے وہیں پر رہا کرتے تھے اور صرف ایک دو افراد کو آپ کے حالات کی اطلاع تھی یہاں تک کہ رے کہ اکثر لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور شیعوں میں سے ایک شخص کو سکّۃ الموالی سے اٹھایا جائے گا اور وہیں دفن کر دیا جائے گاایک سیب کے درخت کے پاس عبدالجبار بن عبدالوہاب کے باغ میں اور اس کے بعد اس جگہ کی طرف اشارہ فرمایا جہاں آج بھی یہ قبر موجود ہے۔ اس شخص نے جا کر اس درخت اور اس جگہ کو صاحب باغ سے خرید لیا اور جب اس نے پوچھا کہ تم کیوں خرید رہے ہو تو اس نے اپنے خواب کو نقل کیا جس کے بعد صاحب باغ نے کہا کہ میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے اور میں نے اس جگہ کو اور اس باغ کو وقف کر دیا ہے اس سید جلیل القدر اور تمام شیعوں کے لئے کہ اپنے مُردوں کو وہاں دفن کریں ۔ اس کے بعد حضرت عبدالعظیم بیمار ہو ئے اور مالک کی بارگاہ مین پہنچ گئے۔ جب غسل دینے کے لئے لباس کو اتارا گیا تو دیکھا گیا کہ آپ کی جیب میں ایک رقع ہے جس میں آپ نے اپنے نسب کو یوں لکھا تھا کہ میں ابوالقاسم عبدالعظیم بن عبداللہ بن علی بن حسن بن زید بن امام حسنؑ بن علی بن ابی طالب علیہم السلام ہوں۔ صاحب بن عباد نے آپ کے علم کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ابوتراب رویانی نے روایت کی ہے کہ میں نے ابو حماد رازی سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں امام علی نقیؑ کی خدمت میں سامرہ میں واردہوا اور میں نے حضرت سے کچھ مسائلِ حلال و حرام دریافت کئے تو آپ نے میرے مسائل کے جوابات دیئے اور جب میں نے حضرت کو الوداع کہہ کر نکلنا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے اگر کوئی مسئلہ مشکل ہو تو اسے عبد العظیم بن عبداللہ حسنی سے دریافت کر لینا اور میرا سلام پہنچا دینا۔ محقق دامادؒ نے کتاب رواشح میں فرمایا ہے کہ زیارت عبدالعظیم کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور یہ بھی وار دہوا ہے کہ اس کی جزا یہ ہے کہ آپ کے زائر کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ شیخ شہیدؒ ثانی نے اپنے حواشی اسی روایت کے خلاصہ کو بعض علماء و انساب سے نقل کیا ہے اور ابن بابویہ اور امین قولویہ نے معتبر سند سے روایت کی ہے کہ ایک شخص اہل رے میں سے امام علی نقیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں تھے اس نے کہا کہ میں زیارت امام حسینؑ کے لئے گیا ہو اتھا۔ فرمایا کہ اگر تم قبر حضرت عبدالعظیم کی زیارت کر لیتے تو تم کو وہی ثواب مل جاتا جو زیارت امام حسینؑ کا تھا۔