فضیلت وکیفیت زیارت امیرالمومنینؑ
اس مقام پر چند مطالب ہیں:
مطلب اوّل ___فضیلت زیارت امیرالمومنینؑ
شیخ طوسیؒ نے سند صحیح کے ساتھ محمد بن مسلمؒ سے امام جعفر صادقؑ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ خداوند عالم نے ملائکہ سے زیادہ کوئی مخلوق نہیں پیدا کی ہے اور یہ ملائکہ ستّر ہزار کی تعداد میں نازل ہو کر بیت معمور کا طواف کرتے ہیں اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد خانۂ کعبہ کے طواف کو جاتے ہیں اور طواف کعبہ تمام کرنے کے بعد قبر پیغمبرؐ پر آکر سلام کرتے ہیں۔ اس کے بعد قبر امیرالمومنینؑ پر سلام کرنے کے حاضر ہوتے ہیں اور ان سب کے بعد قبر حسینؑ پر آ کر سلام کرتے ہیں اور آسمان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر دوسرا گروہ نازل ہوتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک یوں ہی باقی رہے گا۔ پھر فرمایا کہ جو شخص امیرالمومنینؑ کی زیارت کرے اور آپ کے حق کا پہچانتا ہو یعنی آپ کو امام واجب الاطاعت اور خلیفۂ بلا فصل پیغمبرؐ مانتا ہو اور کسی غرور و تکبر کی بنا پر زیارت کے لئے آیا ہو تو پروردگار اس کے لئے ایک لاکھ شہیدوں کااجر عنایت فرماتا ہے اور اس کے تمام گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور روزِ قیامت اسے اس حال میں محشور کرتا ہے کہ ہولِ قیامت سے محفوظ رہے اور اس کا حساب آسان ہو جائے اور ملائکہ رحمت اس کا استقبال کریں اور جب زیارت سے واپس ہو تو ملائکہ اس کی مشایعت کر کے اسے اس کے گھر تک پہنچائیں اور اگر بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کریں اور اگر مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلیں اور اس کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں۔
سید عبدالکریم بن طاؤسؒ نے فرحۃ الغری میں آنحضرت سے روایت کی ہے کہ جو شخص پیدل زیارتِ امیرالمومنینؑ کو جائے پروردگار ہر قدم پر ایک حج یا عمرہ کا ثواب اور اگر پیدل ہی واپس آجائے تو دو حج اور دو عمرہ کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
انھیں حضرت سے روایت ہے کہ آپ نے ابن مادر سے فرمایا کہ جو شخص ہمارے جد امیرالمومنینؑ کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ہوئےکرے پروردگار اس کے لئے ہر قدم پر حج مقبول اور عمرۂ پسندیدہ کا اجر عنایت فرماتاہے اور یاد رکھو کہ آتش جہنم ان قدموں تک نہیں پہنچ سکتی جو راہِ زیارت امیرالمومنینؑ میں غبار آلود ہو گئے ہوں۔ چاہے انسان پیادہ زیارت کے لئے جائے چاہے سوار ہو کر جائے۔ اے ابن مارد! اس حدیث کو آبِ زر سے لکھ لو___نیز امامِ صادقؑ سے روایت ہے کہ پشت کوفہ پر ایک قبر ہے جہاں کوئی بھی رنجیدہ اور دردمند انسان اگر پناہ حاصل کرے گا تو پروردگار اس کو شفا عنایت فرمائے گا۔
مؤلّف: معتبر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروردگار نے قبر امیرالمومنینؑ اور قبور اولادِ امیرالمومنینؑ کو خوفزدہ لوگوں کی پناہ گاہ، مضطر افراد کا سہارا اور روئے زمین کے لئے امان قرار دیا ہے کہ جو غمزدہ وہاں پہنچ جائے اس کا غم زائل ہو جاتا ہے اور جو درد کا مارا اپنے کو اس جگہ مس کر دے اسے شفا حاصل ہو جاتی ہے اور جو وہاں پناہ لے گا اسے امان مل جاتی ہے۔