وَ بِحَقِّ مَنْ حَلَّ بِهَا وَ ثَوٰى فِيْهَا
وَ بِحَقِّ جَدِّهِ وَ اَبِيْهِ
وَ اُمِّهِ وَ اَخِيْهِ
وَ الْاَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ
وَ بِحَقِّ الْمَلَاۤئِكَةِ الْحَآفِّيْنَ بِهِ
اِلَّا جَعَلْتَهَا شِفَاۤءً مِنْ كُلِّ دَاۤءٍ
وَ بُرْءًا مِنْ كُلِّ مَرَضٍ
وَ نَجَاةً مِنْ كُلِّ اٰفَةٍ
وَ حِرْزًا مِمَّاۤ اَخَافُ وَ اَحْذَرُ۔
اس کے بعد اس خاک کو استعمال کرے۔
روایت میں ہے کہتربت امام حسینؑ کو مہر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر سورۂ انّا انزلناہ پڑھا جائےنیز روایت ہے کہ جو شخص اس خاک کوکھانا چاہتا ہے یا کسی کو کھلانا چاہتا ہے وہ پہلے کہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقًا وَاسِعًا
وَ عِلْمًا نَافِعًا
وَ شِفَاۤءً مِنْ كُلِّ دَاۤءٍ
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
مؤلّف کا بیان ہے کہ اس تربت شریفہ کے فوائد بہت ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مستحب ہے کہ اسے میت کے ساتھ قبر میں رکھا جائے اور کفن کو اسی سے لکھا جائے اور پھر اسی پر سجدہ کیا جائے کہ خاکِ شفا پر سجدہ ساتوں حجابات کو اٹھا دیتا ہے اور نماز کی قبولیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس خاک سے تسبیح بنانا اور اس پر ذکر کرنا اور اس کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا بھی فضیلت رکھتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ خودتسبیح پروردگار کرتی رہتی ہے چاہے صاحبِ تسبیح تسبیح کرے یا نہ کرے۔ اور واضح رہے کہ یہ تسبیح اس تسبیح کے علاوہ ہے جو فطری طور پر ساری کائنات کے ذرات کرتے ہیں جیسا کہ پروردگار نے فرمایا ہے۔
عارف رومی نے اسی مفہوم کو یوں بیان کیا ہے:۔
اگر تمہارے پاس نگاہِ غیب آشنا ہوتی٭٭٭اور تمہارے ساتھ دنیا کے ذرات ہم راز ہوتے
تو تم خاک آب مٹی کے٭٭٭نطق کو بھی محسوس کر لیتے
کہ تمام ذرات عالم خاموشی کے٭٭٭ساتھ صبح و شام کہہ رہے ہیں
کہ ہم سماعت و بصارت و ہوش رکھتے ہیں٭٭٭اور تم نامحرموں کے سامنےخاموش رہتے ہیں
اگر تم جمادات کے ساتھ یک رنگ ہو جاؤ٭٭٭تو اجزائے عالم کے غلغلہ کو سن سکتے ہو
صاف تسبیح جمادات کی آواز آ رہی ہے٭٭٭صرف وسوسے تاویلوں میں اضافہ کر دیتے ہیں
سُبْحَانَ اللهِ
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
وَ اللهُ اَكْبَرُ۔
یہ تسبیح جس کاذکر اس روایت میں ہے یہ خصوصیات خاص قبر سیدالشہداءؑ میں ہے۔
۶امام رضاؑ سے منقول ہے کہ جو شخص تسبیح خاکِ شفا ہاتھ میں لے کر کہے
تو ہر دانہ پر خداوند عالم اس کے لئے چھ ہزار نیکیاں لکھے گا اور چھ ہزار گناہ محو کر دے گا اور چھ ہزار درجات بلند کردے گا اور چھ ہزار افراد کی شفاعت کا حق دے دے گا۔ امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص قبرِ امام حسینؑ کے سنگ ریزوں سے تسبیح بنائے اور ایک مرتبہ استغفار کر لے تو اس کے لئے ستّر مرتبہ استغفار لکھا جاتا ہے اور اگر تسبیح ہاتھ میں لئے رہے اور خود کچھ نہ پڑھے تو ہر دانہ کی سات مرتبہ تسبیح درج کی جاتی ہے۔
۷حدیث معتبر میں ہے کہ امام صادقؑ عراق تشریف لائے تو ایک گروہ آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تربت امام حسینؑ ہر درد سے شفا کا باعث ہے۔ کیا خوف سے حفاظت کا سبب بھی ہے؟ فرمایا بیشک اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ وہ ہر خطرہ سے محفوظ رہے تو اسے خاکِ قبر امام حسینؑ کی تسبیح بنا کر اپنےہاتھ میں رکھنا چاہیئے اور تین مرتبہ اس دعا کو پڑھنا چاہیئے۔
اَصْبَحْتُ [اَمْسَيْتُ] اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِمًا بِذِمَامِكَ وَ جِوَارِكَ الْمَنِيْعِ
الَّذِيْ لَا يُطَاوَلُ وَ لَا يُحَاوَلُ
مِنْ شَرِّ كُلِّ غَاشِمٍ وَ طَارِقٍ
مِنْ سَاۤئِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَ مَا خَلَقْتَ
مِنْ خَلْقِكَ الصَّامِتِ وَ النَّاطِقِ
فِي جُنَّةٍ مِنْ كُلِّ مَخُوْفٍ
بِلِبَاسٍ سَابِغَةٍ حَصِيْنَةٍ
وَ هِيَ وِلَاۤءُ اَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ
عَلَيْهِمُ السَّلَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
مُحْتَجِزًا [مُحْتَجِبًا] مِنْ كُلِّ قَاصِدٍ لِيۤ اِلٰۤى اَذِيَّةٍ
بِجِدَارٍ حَصِيْنٍ
۟اِلْاِخْلَاصِ فِيْ الْاِعْتِرَافِ بِحَقِّهِمْ
وَ التَّمَسُّكِ بِحَبْلِهِمْ جَمِيْعًا
مُوْقِنًا اَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَ مَعَهُمْ
وَ مِنْهُمْ وَ فِيْهِمْ وَ بِهِمْ
اُوَالِيْ مَنْ وَالَوْا
وَ اُعَادِيْ مَنْ عَادَوْا
وَ اُجَانِبُ مَنْ جَانَبُوْا
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
وَ اَعِذْنِيْ اَللّٰهُمَّ بِهِمْ
مِنْ شَرِّ كُلِّ مَاۤ اَتَّقِيْهِ يَا عَظِيْمُ
حَجَزْتُ الْاَعَادِيَ عَنِّيْ بِبَدِيْعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اِنَّا جَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا
وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا
فَاَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۔
اس کے بعد تسبیح کو بوسہ دے کر آنکھوں پر ملے اور کہے
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ هٰذِهِ التُّرْبَةِ الْمُبَارَكَةِ
وَ بِحَقِّ صَاحِبِهَا
وَ بِحَقِّ جَدِّهِ وَ بِحَقِّ اَبِيْهِ
وَ بِحَقِّ اُمِّهِ وَ بِحَقِّ اَخِيْهِ
وَ بِحَقِّ وُلْدِهِ الطَّاهِرِيْنَ
اجْعَلْهَا شِفَاۤءً مِنْ كُلِّ دَاۤءٍ
وَ اَمَانًا مِنْ كُلِّ خَوْفٍ
وَ حِفْظًا مِنْ كُلِّ سُوۤءٍ۔
اس کے بعد تسبیح کو اپنی پیشانی پر رکھے۔ اگر صبح کو ایسا کرے گا تو شام تک امان مین رہے گا اور شام کو ایسا کرے گا تو صبح تک محفوظ رہے گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص کسی بادشاہ یا کسی ظالم سے ڈرتا ہو تو گھر سے باہر نکلتے وقت یہی طریقہ اختیار کرے تو اس کے ہر شر سے محفوظ رہے گا۔
مؤلّف: علمائے کرام کے درمیان مشہور ہے کہ کسی بھی خاک کا کھانا جائز نہیں ہے مگر تربت قبر امام حسینؑ کو لذت کے بجائے شفا کی نیت سے ایک چنے کے برابر کھایا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ ایک مسور کے دانہ کے برابر ہو اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ منھ میں رکھ کر پانی سے اتار لی جائے اور یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقًا وَاسِعًا
وَ عِلْمًا نَافِعًا
وَ شِفَاۤءً مِنْ كُلِّ دَاۤءٍ وَ سُقْمٍ۔
علامہ مجلسیؒ کا ارشاد ہے کہ احتیاط یہ ہے کہ خاکِ پاک کی تسبیح و سجدہ گاہ کی خرید و فروخت نہ کرے بلکہ دونوں طرف سے جنس اور قیمت کو بطور ہدیہ دے دیا جائے بشرطیکہ پہلے سے کوئی شرط نہ ہو جیسا کہ حدیث معتبر میں امام صادقؑ سےمنقول ہے کہ جس شخص نے خاکِ قبرِ امام حسینؑ کو فروخت کیا گویا کہ حضرت کے گوشت کی خرید و فروخت کی۔
مؤلّف: ہمارے استاد عالم متبحر محدث عظیم ثقۃ الاسلام زری نے دارالسلام مین فرمایا کہ ایک دن میرے بھائیوںمیں سے ایک کو والدۂ محترمہ نے دیکھ لیا کہ وہ تربت امام حسینؑ کوقبا کی نیچے کی جیب میں رکھے ہیں تو انھوں نے انتہائی سخت تنبیہ کی اور فرمایا کہ یہ خاکِ پاک کی بے ادبی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ران کے نیچے دب کر ٹوٹ جائے تو بھائی نے کہا کہ ایسا دو مرتبہ ہو چکا ہے لیکن اب آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد میرے والد بزرگوار نے خواب میں دیکھاجب کہ انھیں اس واقعہ کی اطلاع بھی نہیں تھیکہ امامِ حسینؑ ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں اور کتب خانے کے کمرہ میں بیٹھ کر انتہائی محبت کا اظہار فرما رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اپنے بچوں کو بلاؤ۔ آپ نے تمام بچوں کو طلب کیا جن میں ہم پانچ بھائی تھے اور سب حضرت کے سامنے کھڑئے ہو گئے۔ آپ کے پاس لباس اور کچھ چیزیں اور تھیں۔ آپ نے ایک ایک کو بلا کر کوئی نہ کوئی چیز دے دی لیکن جب ہمارے بھائی کی نوبت آئی تو آپ نے ان کی طرف غصہ سے نگاہ کی اور والد سے فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے۔ اس نے ہمارے خاک کی دو سجدہ گاہوں کو اپنی ران کے نیچے توڑ دیا ہے اور یہ کہہ کر آپ نے دوسرے بھائیوں کی طرح طلب کرنے کے بجائے دور سے کوئی چیز پھینک دی جو غالباً میرے خیال کے مطابق کنگھی کا ڈبّہ تھا۔ اس کے بعد والد محترم خواب سے بیدار ہوئے تو انھوں نے اس خواب کو والدۂ محترمہ سے نقل کیا اور انھوں نے اپنا قصہ والد سے بیان کیا اور انھیں اپنے خواب کی صداقت پر بیحد تعجب ہوا۔